شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 34 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 34

آپ کے ہر حکم پر عمل کرتے تھے جس کا بھی آپ ان کو حکم دیتے جیسے ایک عورت مرد کے ہر حکم پر عمل کرتی ہے۔اس طرح اس آقا اور غلامی کے تعلق کو تصویری زبان میں کرشن جی کی گوپیوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔اس کا ایک دوسرا بھی پہلو ہوسکتا ہے۔وہ یہ کہ جو لوگ شری کرشن جی کی طرف کثرت ازدواج کی بات کو منسوب کرتے ہیں اس کو اس زمانہ کے لحاظ سے اس طرح درست بھی مانا جاسکتا ہے کہ وہ گو پیاں آپ کی جائز بیویاں ہی ہوں اور اس کی مثال پہلے انبیاء میں پائی بھی جاتی ہے جیسا کہ مفسرین نے قرآن کریم کی تفاسیر میں حضرت داؤڈ اور حضرت سلیمان کو کثرت ازدواج والا بیان کیا ہے۔لیکن ہمارے نزدیک بہر حال گوپیوں والا واقعہ خالص میتھالوجی ہے جو صرف ان خیالات و جذبات محبت کی ترجمانی کرتی ہے جو ایک نبی اور ہادی کو اپنے پیروؤں اور متبعین سے ہوتی ہے اور ہونی چاہیئے۔(۴) بانسری کی حقیقت :: چوتھی بات جو حضرت کرشن جی کی طرف تصویری زبان میں پیش کی جاتی ہے وہ آپ کا بانسری بجانا ہے۔اگر دیکھا جائے تو انبیاء اس کام کے لئے نہیں آیا کرتے۔ان کا کام تو خدا کی باتوں کو دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے اور جب وہ خدا کی باتوں کو دوسروں تک پہنچاتے ہیں تو اس رنگ میں پہنچاتے ہیں جو دلوں میں اُتر جائیں۔شری کرشن جی بھی جو کلام کرتے تھے وہ ایسا ہی ہوتا تھا کہ جو دلوں میں اُتر جائے اور لوگوں کے دلوں کو موہ لے چونکہ بانسری بھی یہی کام کرتی ہے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اس لئے حضرت کرشن جی کی ان موہ لینے والی اور دلوں میں اُتر جانے والی اور دلوں پر قبضہ کر لینے والی باتوں کو بانسری سے مشابہت دی ہے۔ہر زمانے میں ایسے لوگ ہوتے آئے ہیں جو روحانیت سے پر باتوں سے لوگوں کو اپنی ۳۴