شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 35
طرف مائل کرتے رہے اور آج کے زمانہ میں بھی موجود ہیں تو پھر یہ بات شری کرشن جی کی طرف کیوں منسوب نہیں کی جاسکتی کہ آپ بھی جب خدائی باتوں کو بیان کرتے تھے تو لوگوں کو اپنی طرف مائل کر لیتے تھے اور آپ کا کلام بانسری کی سی میٹھی آواز کا مزا دیتا تھا جو دلوں پر قبضہ کرتا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہوسکتا ہے وہ یہ کہ ہوسکتا ہے اس زمانہ میں لوگوں کو خدا کا کلام اسی بانسری کی سی دُھن میں سننا اچھا لگتا ہو اس لئے آپ اس کلام کو نغماتی انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوں اور اس کی مثال بائبل کے عہد عتیق کی کتابوں سے پیش کی جاسکتی ہے جہاں ایک کتاب کا نام ”غزل الغزلات“ ہے جس کا کلام ایک غزل کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔اسی طرح زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی اور آپ ایک اولو العزم پیغمبر تھے۔ان کے واقعات کو پیش کرتے ہوئے خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے : وَلَقَدْ أَتَيْنَا دَا وَدَمِنَّا فَضْلًا يَجِبَالُ اَوِبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ (سورة سبأ آيت : ۱۱) مفسرین اس کی تفسیر یوں کرتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام جب زبور کو خوش الحانی سے پڑھا کرتے تھے چونکہ آپ نہایت خوش الحان تھے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔جہاں تک خدا کے کلام کو خوش الحانی سے پڑھنے کی بات ہے تو اس کا ذکر قرآن کریم میں ایک جگہ یوں آتا ہے کہ : وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (المزمل آیته) یعنی اور قرآن کو خوش الحانی سے پڑھا کر۔پس عین ممکن ہے کہ حضرت کرشن جی کے زمانہ میں خدائی کلام کو خوش الحانی سے پڑھنے کی غرض سے بانسری کا استعمال ہوتا ہولیکن جہاں تک شری کرشن جی کی تصاویر کے ساتھ ۳۵