شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 33 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 33

مقام کو حاصل کرنا کوئی مشکل امر ہے۔پس یہ تمام تر واقعہ جو ہمارے کرشن جی کی طرف تصویری رنگ میں پیش کیا جاتا ہے اپنے اندر استعارہ اور بڑی حکمت رکھتا ہے اس جگہ میں پھر شری کرشن پریمیوں سے کہوں گا کہ ہم بھی تو کرشن پریمی ہیں۔آپ کو اپنے کرشن کی طرف ایسی غلط باتوں کو منسوب کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا جس سے ان کی کسر شان ہو۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ لوگ جو شری کرشن جی کی طرف ایسی بیہودہ باتیں منسوب کرتے ہیں اس سے باز آجائیں گے اور ان واقعات کو ویسے ہی اچھے معنوں میں لوگوں کے سامنے پیش کریں گے جیسا کہ ہم کرتے ہیں اسی بات سے ہی آپ لوگوں کی شری کرشن جی مہاراج سے محبت کا ثبوت ملے گا۔(۳) گوپیوں کی حقیقت :: اسی طرح شری کرشن جی کے متعلق ایک یہ بات بھی ہمارے ہندو بھائی بیان کرتے ہیں کہ شری کرشن جی کی ہزاروں گو پیاں تھیں۔اور پھر ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی باتیں بھی بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں۔اوّل تو ہمارے نزدیک گوپیوں سے مُراد آپ کے شاگرد ہیں جنہوں نے آپ کی تابعداری قبول کر لی تھی چونکہ شاگردی کا مقام ایسا ہوتا ہے کہ اُستاد کا ہر کہا مانا جاتا ہے جس کو مرد عورت کے تعلقات سے مشابہت دی جاسکتی ہے کہ جب کوئی عورت کسی مرد سے شادی کر لیتی ہے تو وہ اپنے آپ کو بکلی طور پر اس کی غلامی میں ڈال دیتی ہے۔انبیاء کے ہاتھوں پر جمع ہونے والے بھی بالکل اسی طرح اپنے آپ کو انبیاء کی غلامی میں داخل کر لیتے ہیں اور ان کے ہر حکم پر لبیک کہتے ہیں جس کا اصل نچوڑ لفظ بیعت میں پایا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو کسی کے ہاتھوں میں فروخت کر دینا۔وہ لوگ جو آ پر ایمان لائے تھے اُنہوں نے اپنے آپ کو شری کرشن جی کے ہاتھوں میں بیچ دیا تھا اور وہ