شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 28
آیت لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ دلیل بن سکتی ہے۔“ (وقائع عالمگیری صفحہ نمبر ۵) اسی طرح مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی ایک جگہ فرماتے ہیں : رہی یہ بات کہ اگر ہندوؤں کے اوتار انبیاء یا اولیاء ہوتے تو دعوی خدائی نہ کرتے اور افعالِ ناشائسته مثل زنا، چوری وغیرہ ان سے سرزدنہ ہوتے۔حالانکہ اوتاروں کے معتقد یعنی ہندو ان دونوں باتوں کے معتقد ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ دونوں باتیں بے شک ان سے سرزد ہوئی ہیں سو اس شبہ کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف دعوی خدائی نصاری نے منسوب کر دیا ہے اور دلائل عقلی و نقلی اس کے مخالف ہیں۔ایسے ہی کیا عجب ہے کہ سری کرشن اور سری رامچندر کی طرف بھی یہ دعوی بدروغ منسوب کر دیا ہو۔“ مباحثہ شاہجہانپور مطبوعہ سہارنپور مابین مولانا قاسم صاحب ودیا نند سرسوتی صفحه ۳۱) قارئین کرام مذاہب اور انبیاء کی تاریخ ایسی ہی ہے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جاتا ہے ویسے ویسے مذہب میں تبدیلی پیدا ہوتی جاتی ہے۔اور پھر انبیاء پر الزامات تو ان کی اپنی زندگیوں میں ہی لگ جاتے ہیں۔اور پھر آہستہ آہستہ نئے نئے الزامات ان کی طرف منسوب ہوتے چلے جاتے ہیں۔شری کرشن جی کی زندگی پر جس قسم کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں عقل ان کو سچا تسلیم کرنے اور انسانی فطرت اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتی کیونکہ جو خدا کا پیارا ہواور دنیا کی ہدایت کے لئے خدا نے اسے مقرر کیا ہو پھر وہ ایسے کام کرے جسے کوئی شخص بھی اپنی طرف منسوب ہونا گوارہ نہیں کرتا تو اس نبی کیلئے ویسا کرنا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔اے کرشن سے پیار کرنے والو! کیا تمہارے پیار کا یہی تقاضہ ہے کہ تم اپنے پیارے پر گند اور