شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 29 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 29

کیچڑ اچھالتے ہو۔پیار کرنے والوں کے پیار کا نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ اگر اپنے پیارے سے کوئی غلطی سرزد بھی ہو جائے تو وہ اسے چھپاتا ہے اور کجا تم ہو کہ اپنے سب سے پیارے نبی کی طرف ان الزامات کو منسوب کر کے خوش ہوتے ہو اور فخر کے ساتھ تصویری رنگ میں دنیا والوں کے سامنے پیش کرتے ہو۔آپ تو یہ کر سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ بات پسند نہیں۔ہمارے نزدیک یہ بزرگ ایک عزت کا مقام رکھتے ہیں اور ہم ہر آن ان کی عزت و تکریم کو دوبالا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔شری کرشن جی کی طرف منسوب کئے جانے والے واقعات ایک الزام کا رنگ رکھتے ہیں اور بعض واقعات تو جیہ طلب ہیں۔اگر ہم ان تو جیہات کو قبول کر لیں تو شری کرشن جی ان تمام الزامات سے بری ہی نہیں ہو جاتے بلکہ آپ کو ایک اعلیٰ اور بلند مقام بھی عطا ہو جاتا ہے۔جناب نواب اکبر یار جنگ بہادر ایڈوکیٹ اسی بات کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں : وو گوپیوں کی عشق بازی کا مشہور قصہ اور بانسری کی سریلی آواز سے ان کو مست کر دینے کا واقعہ اس قدر عام ہے کہ اس کو چھپانے یا اس سے انکار کرنے کی بجائے عام طور پر ان کو کرشن جی کے کمالات میں سے شمار کیا جاتا ہے۔اگر ان واقعات کو ہندوؤں کی قدیم میتھالوجی تصور کیا جائے اور ان کی ایسی معقول تعبیر و توجیہہ کر دی جائے جو ایک مذہبی بادی کی عظمت و احترام کے شایانِ شان ہو تو کچھ شبہ نہیں کہ گوپیوں کی عشق بازی کا قصہ اور بانسری کی سریلی تانیں اس معقول تعبیر و توجیہہ کے بعد حضرت کرشن جی کے کمالات ہی سے شمار کئے جاسکتے ہیں۔“ (کلکی اوتار صفحه و ۲۵) ۲۹