شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 18 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 18

کی تعبیر اور ہے۔گذشتہ لوگوں میں سے کوئی معین شخص جب کہ شریعت سے کفر ثابت نہ ہو اس کے بارہ میں کفر کا فتویٰ جائز نہیں۔اور اس لحاظ سے کتاب وسنت کے اعتبار سے یہ فتویٰ غلط ہے۔اور حسب آیت شریفہ وَان مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُہ ظاہر ہے کہ اس جماعت میں سے بھی بشیر و نذیر گزرے ہیں اور یہ صورت حال متقاضی ہے کہ یہ لوگ ولی یا نبی ہوں۔رام چندر جو ابتدائے آفرینش میں پیدا ہوئے تھے اور اس وقت عمریں بھی لمبی اور قوتیں قوی ہوتی تھیں، نے اہل زمانہ کی مناسب حال تربیت کی اور ( حضرت ) کرشن ان بزرگوں کے دور آخر میں ظاہر ہوئے تھے۔ان کے زمانہ میں لوگوں کی عمریں اور قوتیں نسبتا کم تھیں۔انہوں نے اہل زمانہ کی اسی نسبت سے جذب ہدایت کا کام کیا۔ان سے جو بکثرت نغمے اور شنیدہ باتیں مروی ہیں وہ ان کے جذبہ عشق ہی کی دلیل ہیں۔پس صحرا کی آگ ان کے جذ بہ عشق و محبت سے متشکل نظر آئی۔(حضرت) کرشن جو کہ کیفیت محبت میں استغراق رکھتے تھے ان کا باطن آگ کے وسط میں ہونے سے ظاہر ہے اور رامچندر جو راہ سلوک رکھتے تھے وہ آگ کے کنارے پر نظر آئے ہیں۔واللہ اعلم۔حالات حضرت مظہر جان جاناں رحمتہ اللہ ، مرتبہ حضرت شاہ غلام علی صاحب رحمتہ اللہ، مطبوعہ مطبع احمدی ۱۲۶۹ ھ صفحہ ۲۶) حضرت غلام علی شاہ صاحب نے مکتوب چہار دہم بعنوان” در بیان آنین کفار ہند“ کتاب کے صفحہ ۲۶ پر ایک روایت درج کی ہے جو ابوصالح خان صاحب کی ہے لکھا ہے کہ : ۱۸