شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 19
وہ متھرا گئے ہوئے تھے ان کو سات روپوں کی ضرورت پیش آئی۔ایک رات جب کہ وہ تہجد ادا کر رہے تھے ایک شخص کرشن جی کی شکل میں جس طرح کہ ہندو کرشن جی کے متعلق بیان کرتے ہیں ظاہر ہوا اور بعد سلام کے اُس نے سات روپے پیش کئے۔میں نے کہا کہ ٹھہر وذرا میں نماز ادا کرلوں۔ادائے نماز کے بعد میں نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے۔اس نے کہا کہ کرشن اور یہ سات روپئے تمہاری ضیافت کے ہیں کہ تم میرے مقام پر آئے۔میں نے کہا کہ میں محمدی آہوں اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پیغمبر، ہماری تمام حاجتیں پوری کرنے کے لئے کافی ہیں۔میں غیروں کا ہدیہ قبول نہیں کرسکتا۔وہ شخص رویا اور کہا کہ : ما وصف نبی آخر زماں و اخلاص اتباع اوصلی اللہ علیہ وسلم شنیده بودیم زیاده از آن مشاہدہ کردیم یعنی ہم نے نبی آخر الزماں کی تعریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکات کے بارے میں سنا ہوا تھا اس سے بڑھ کر ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔اس واقعہ سے جہاں ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کے مقام کا پتہ چلتا ہے وہاں دوسری طرف حضرت کرشن جی کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت اور عقیدت بھی ظاہر ہوتی ہے۔مولا ناغوث علی شاہ پانی پتی رحمہ اللہ کا شمار بھی صوفیا میں ہوتا ہے اور آپ کا تعلق تیرہویں صدی سے ہے۔آپ کے ملفوظات میں آپ کا ایک خواب درج ہے اس خواب کا پس منظر پیش کرتے ہیں کہ ایک ہندو پنڈت کی تعلیم کی بنیاد پر میں نے برہم گا تری کا پاٹھ کیا۔اس پاٹھ کے کر چکنے کے بعد فرمایا : " جس روز ہم پاٹھ کر چکے تو آخری شب میں یہ خواب دیکھا کہ عین