شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 17
سے صفحہ ۱۲۱ میں درج ہے کہ : ندير و باید دانست که بحکم آیت كريمه وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا و آیات دیگر در ممالک ہندوستان نیز بعثت انبیاء ورسل علیہم السلام واقع شده است و احوال آنها در کتب اینها مضبوط است و از آثار آنها ظاهر میگردد که مرتبه کمال و تبلیغ داشته اند و رحمت عامه رعایت مصالح عباد را دریس مملکت وسیع نیز فرو نگذاشته “ یعنی اور جاننا چاہئے کہ آیت کریمہ کے حکم کی رُو سے وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نذیر اور دیگر آیات کی رُو سے ہندوستان کے ممالک میں انبیاء علیہ السلام مبعوث ہو چکے ہیں اور ان کے احوال ان کی کتب میں مضبوط طور پر درج ہیں اور ان کے آثار سے ظاہر ہے کہ وہ مرتبہ کمال اور تبلیغ رکھتے تھے اور خدا کی رحمتِ عامہ نے اس کے بندوں کے مصالح کو اس وسیع ملک میں نظر انداز نہیں کیا۔حضرت مظہر جان جاناں رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کا ایک اور واقعہ بھی حضرت شاہ غلام علی صاحب نے بیان کیا ہے وہ اس طرح کہ ایک شخص نے ایک خواب دیکھا اور اپنی خواب کا ذکر حضرت مظہر جان جاناں کے سامنے کیا اور آپ نے اس خواب کی تعبیر بیان کی لکھا ہے کہ : ایک روز ایک شخص نے آپ سے عرض کیا کہ میں نے خواب وو میں دیکھا ہے کہ ایک صحرا آگ سے پر ہے۔اور ( حضرت ) کرشن آگ کے وسط میں ہیں۔اور ( حضرت ) رام چندر اس آگ کے کنارے پر ہیں۔ایک شخص نے اس خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ رام اور کرشن اکابر کفار تھے (معاذ اللہ ) اور دوزخ کی آگ میں عذاب پارہے ہیں۔فقیر نے کہا کہ اس خواب ۱۷