شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 22
37 36 حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مال کے معاملہ میں نہایت محتاط تھے اور کبھی پسند نہ فرماتے کہ کسی بھول چوک کی وجہ سے لوگوں کا مال ضائع ہو جائے۔آپ کی نسبت یہ تو خیال کرنا بھی گناہ ہے کہ نعوذ باللہ آپ اپنے نفس پر اس بات سے ڈرے ہوں کہ کہیں اس سونے کو میں نہ خرچ کرلوں۔مگر اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ آپ اس بات سے ڈرے کہ کہیں جہاں رکھا ہو و ہیں نہ پڑار ہے اور غرباء اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جائیں۔اور اس خیال کے آتے ہی آپ دوڑ کر تشریف لے گئے اور فور وہ مال تقسیم کروایا اور پھر مطمئن ہوئے۔(سيرة النبي ص 97) گمشدہ پیالے کی قیمت حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضور ملالہ نے ایک بڑا پیالہ کسی سے مستعار لیا۔مگر وہ کم ہو گیا تو حضور نے اس کا تاوان یعنی اس کی قیمت ادا فرمائی۔(سنن ترمذی ابواب الا حکام باب فیمن یکسر له شی ) -14 قرض کی ادائیگی آنحضرت مطلقہ قرض لینے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے اور حتی الامکان قرض لینے کو سخت نا پسند کرتے تھے لیکن اگر حقیقی ضرورت ہوتی تو قرض لیتے اور وقت پر اور عمدگی کے ساتھ ادا ئیگی فرماتے اور بڑھا کر دیتے۔مگر یاد رہے کہ بڑھا کر دینے کی شرط کو حضور نے نا پسند فرمایا اور اسے سود قرار دیا جو اسلام میں حرام ہے۔ہاں اپنی مرضی اور خوشی سے کوئی بڑھا کر دے تو یہ پسندیدہ ہے۔حضور متلاقہ نے ایک دفعہ کسی سے اونٹ قرض لیا اور جب واپس کیا تو زیادہ بہتر اونٹ واپس کیا اور فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں بہتر رویہ اختیار کرے۔کر دیا۔(سنن ترمذی ابواب البیوع باب استنقراض البعير ) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ حضور نے ایک دفعہ مجھ سے قرض لیا اسے ادا فر مایا اور بڑھا ( صحیح بخاری کتاب الاستقراض باب حسن القضاء) حضور ملالہ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ حضور ملاقہ نے ایک شخص سے جوان اونٹ بطور قرض لیا تھا جب حضور ” کی تحویل میں کچھ اونٹ آئے تو حضور نے مجھ سے فرمایا کہ میں اس شخص کا قرض ادا کروں۔میں نے عرض کیا کہ ہمارے تمام اونٹ اس شخص کے اونٹ سے زیادہ عمر اور قیمت کے ہیں۔مگر حضور نے فرمایا اس کو انہی میں سے دو کیونکہ لوگوں میں سے بہترین وہی ہیں جو ادائیگی کے لحاظ سے بہتر ہیں۔(جامع ترمذی ابواب البيوع باب استقراض البعير ) www۔alislam۔org