شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 21
35 -13 34 -12 امانت دعویٰ نبوت سے پہلے لوگ حضور مطلقہ کے پاس امانتیں رکھا کرتے تھے اور یہ سلسلہ اس وقت تک کامل اعتماد کے ساتھ جاری رہا جب تک حضور ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ تشریف نہیں لے گئے حضور اپنوں اور دشمنوں سب کی امانتوں کا حق پوری شان کے ساتھ ادا کرتے رہے۔جب آپ شدید دکھ اور اذیت کے ساتھ مکہ سے ہجرت فرما رہے تھے۔تب بھی آپ کو لوگوں کی امانتوں کی واپسی کا خیال تھا اور آپ نے وہ امانتیں حضرت علی کے حوالے کیں اور انہیں فرمایا کہ لوگوں کی امانتیں لوٹا کر مدینہ پہنچ جائیں۔صدقہ کا خیال آپ فرمایا کرتے تھے کہ بسا اوقات گھر میں بستر پر یا کسی جگہ کوئی کھجور پڑی ملتی ہے۔اٹھاتا ہوں اور ( بھوک کی وجہ سے ) کھانے لگتا ہوں مگر معاً خیال آتا ہے کہ کہیں صدقہ کی نہ ہو تب اس کے کھانے کا ارادہ ترک کر دیتا ہوں۔(صحيح بخاری کتاب اللقطه باب اذا وجدتمرة في الطريق) مالی معاملات اور لین دین بہترین شریک کار حضرت سائب کہتے ہیں کہ میں (ہجرت کے بعد ) حضور کے پاس حاضر ہوا تو صحابہ (جو مجھے جانتے تھے حضور کے پاس میری تعریفیں کرنے لگے اور میرے متعلق حضور کو بتانے لگے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ مجھے کیا بتاتے ہو ( سائب) کو تو میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔سائب کہتے ہیں تب میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ صحیح فرماتے ہیں۔آپ اور میں تو اسلام سے پہلے تجارت میں شریک ہوتے تھے اور آپ بہترین شریک کار یا پارٹنر (Partner) تھے۔آپ مخالفت نہیں کرتے تھے روک ٹوک نہیں فرماتے تھے یعنی اپنی مرضی نہیں چلاتے تھے اور آپ سے معاملہ کرنا بڑا آسان تھا اور نہ ہی آپ جھگڑتے تھے۔(سنن ابوداؤد کتاب الادب باب کراھیة المراء) احتیاط کی معراج حضرت عقبہ فرماتے ہیں۔میں نے نبی کریم مقاقعہ کے پیچھے مدینے میں عصر کی نماز پڑھی۔آپ نے سلام پھیرا اور جلدی سے کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی گردنوں پر سے دوڑتے ہوئے اپنی بیویوں میں سے ایک کے حجرہ کی طرف تشریف لے گئے۔لوگ آپ کی اس جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے۔آپ جب باہر تشریف لائے تو معلوم کیا کہ لوگ آپ کی جلدی پر منتجب ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے یاد آ گیا کہ تھوڑا سا سونا ہمارے پاس رہ گیا ہے اور میں نے ناپسند کیا کہ وہ میرے پاس پڑا رہے اس لئے میں نے جا کر حکم دیا کہ اسے تقسیم کر دیا جائے۔( بخاری کتاب الصلوۃ باب من صلی بالناس) www۔alislam۔org