شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 23 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 23

39 39 سکھائے اور فرمایا:۔38 -15 حیا کے نمونے حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ حضور پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے اور جب آپ کسی بات کو نا پسند فرماتے تھے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا اور ہم حضور کے چہرہ سے پہچان لیتے تھے کہ حضور نے کسی بات کو نا پسند فرمایا ہے۔( صحیح بخاری مسلم کتاب الفصائل باب كثرة وحياة ) نام نہ لیتے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب حضور کو کسی شخص کے متعلق کوئی شکایت پہنچتی تو حضور اس شکایت کا ذکر اس شخص کا نام لے کر نہیں کرتے تھے اور یہ نہیں فرماتے تھے کہ فلاں آدمی کو کیا ہو گیا ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہے بلکہ ہمیشہ بغیر کسی کا نام لئے یہ فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں یہ کہتے ہیں۔صلى الله (سنن ابوداؤد کتاب الادب باب في حسن العشرة) اللہ نے آداب سکھائے نے جب حضرت زینب سے شادی کی تو آپ کی دعوت ولیمہ میں صحابہ کرام دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔حضور کی مصروفیات میں حرج ہور ہا تھا۔مگر حضور اپنی فطری حیا کی وجہ سے ان کو جانے کے لئے نہیں کہہ رہے تھے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے خود مومنوں کو آداب تمہارا طریق نبی کو تکلیف دے رہا تھا۔مگر وہ تم سے حیا کر رہا تھا مگر اللہ تعالیٰ حق کے بیان میں کوئی شرم نہیں کرتا۔(احزاب۔8) بچپن کا واقعہ آنحضرت ملالہ کے بچپن میں کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی۔اور حضور ملالہ اور حضور کے چچا عباس پتھر اٹھا اٹھا کر جمع کر رہے تھے تو آپ کے چچا حضرت عباس نے آپ سے کہا۔بھتیجے اپنا تہہ بندا اپنے شانے پر رکھ لو۔تاکہ پتھروں کی رگڑ وغیرہ نہ لگے۔اور غالباً حضرت عباس نے خود ہی ایسا کر دیا مگر چونکہ اس سے آپ کے جسم کا کچھ ستر والا حصہ ننگا ہو گیا۔جس کی وجہ سے آپ شرم کے مارے زمین پر گر گئے اور آپ کی آنکھیں پتھرانے لگیں۔اور آپ بے تاب ہو کر پکارنے لگے میرا تہہ بند میرا تہہ بند۔اور پھر آپ کا تہہ بند جب درست کر دیا گیا تو آپ نے اطمینان محسوس کیا۔☆☆☆ (صحیح بخاری کتاب بنیان الکعبه باب نمبر 1) www۔alislam۔org