شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 62 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 62

62 مولوی عبدالرحمن خان صاحب یہ رسالہ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔اس کے علاوہ اور بھی لٹریچر موجودہ زمانہ میں جہاد بالسیف کے خلاف ان کے پاس تھا اور انہوں نے افغانستان جا کر یہ لٹریچر اور کتا بیں تقسیم کی تھیں۔اس پر امیر عبدالرحمن خان نے ان کے لئے قید کا حکم دیا اور تحقیقات کے بعد مولوی صاحب کے عقائد اور ان کتب اور رسائل کے مضمون کو جو وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے اپنے عقیدہ جہاد کے خلاف پایا تو ان کو شہید کر وا دیا۔سید محمود احمد صاحب افغانی کا بیان ہے کہ مولوی صاحب کی شہادت ۲۰ /جون ۱۹۰۱ء کو ہوئی تھی۔(۲۳) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف کا کابل شہر میں قیام مولوی عبدالرحمن خان صاحب کی شہادت کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب کو مشورہ دیا گیا کہ وہ مصلحتا کا بل چلے جائیں اور امیر عبدالرحمن خان کو ملیں۔صاحبزادہ صاحب ابھی سید گاہ میں ہی تھے کہ ایک روز سردار شیریں دل خان حاکم خوست نے ان سے کہا کہ ہمارے ملک میں بہت فساد پڑا ہوا ہے۔لوگ شیطان سیرت ہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی دشمن مولوی عبدالرحمن خان کی طرح آپ کی رپورٹ بھی امیر کے پاس کر دے اور امیر خود آپ کو تحقیقات کی غرض سے بلوائے۔آپ بڑی عزت اور پوزیشن والے ہیں جب آپ خود اس کے پاس جائیں گے تو امید ہے کہ وہ آپ سے مل کر بہت خوش ہو گا اور عزت و توقیر سے پیش آئے گا چنانچہ آپ اپنے بعض شاگردوں کے ساتھ کا بل تشریف لے گئے۔کابل میں دربار رات کو ہوا کرتا تھا۔جب آپ دربار میں حاضر ہوئے اور امیر سے ملے تو وہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ آپ کے بارہ میں مجھے بعض رپورٹیں ملی تھیں لیکن میں نے انہیں نظر انداز کر دیا اور میں آپ کے یہاں آنے سے بہت خوش ہوں۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے تھے کہ کچھ عرصہ کے بعد میں نے گھر واپس جانے