شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 63 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 63

63 کا ارادہ کیا تو دربار کے بعض معزز لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ یہ امیر کسی کے قابو میں نہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ گھر پہنچیں اور آپ کو واپس کا بل لانے کے لئے آدمی بھجوا دئے جائیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ کا بل ہی میں قیام کریں۔تب میں امیر کو ملا اور اسے کہا کہ میں کابل میں ہی آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔امیر نے اس پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ بہت اچھا آپ کا بل ہی میں قیام رکھیں۔بعد میں آپ کے اہل وعیال بھی کا بل آگئے۔کابل میں آپ نے درس و تدریس کا شغل جاری رکھا۔آپ امیر عبدالرحمن خان اور اس کے بیٹے سردار حبیب اللہ خان سے ملتے رہتے تھے۔ان کے علاوہ حاجی باشی اور بریگیڈئر مرزا محمد حسین کوتوال سے بھی آپ کی ملاقات رہتی تھی۔(۲۴) امیر عبدالرحمن خان کی بیماری اور وفات امیر عبدالرحمن خان کی صحت پہلے بھی اچھی نہیں تھی لیکن اب اس کا مرض شدت اختیار کر گیا۔وہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو بزرگ سمجھتا تھا اور اس کی خواہش کے مطابق حضرت صاحبزادہ صاحب اکثر اس کو ملنے جایا کرتے تھے۔ایک دن جب آپ امیر کو مل کر آئے تو فرمایا کہ امیر سخت بیمار ہے۔اچھا ہے چلا ہی جائے اس طرح لوگ اس کے مظالم سے محفوظ ہو جائیں گے۔ان دنوں میں امیر باغ بالا میں مقیم تھا۔ایک دن صبح کے وقت آپ کو بلوایا گیا۔وہاں پہنچے اور اپنا گھوڑ ا سید احمد نور کے حوالے کر کے خود اندر چلے گئے۔لوگوں پر خاموشی اور خوف کی حالت طاری تھی۔آپ اندر جا کر فوراً باہر آگئے اور سید احمد نور کو بتایا کہ امیر فوت ہو گیا ہے اور یہ کہ نماز جنازہ ظہر کے بعد ہوگی۔سردار حبیب اللہ خان کی خواہش تھی کہ اس کے باپ کا جنازہ حضرت صاحبزادہ صاحب پڑھائیں۔مصلی امیر عبدالرحمن خان کی وفات کو خفیہ رکھا گیا تھا۔آپ واپس اپنی رہائش گاہ پر آگئے۔رستہ میں سید احمد نور سے فرمایا کہ اگر حبیب اللہ خان نے جنازہ پڑھانے کے لئے پھر کہا تو دیکھا جائے گا ورنہ کیا پڑھانا ہے۔ظہر کے وقت