شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 61
61 کسی شخص نے امیر عبدالرحمن خان کے پاس ان کی شکایت کی اور ان کے قادیان جانے کا بھی ذکر کیا۔امیر عبدالرحمن خان نے حاکم کے نام حکم بھیجا کہ مولوی عبدالرحمن خان صاحب کو گرفتار کر کے کا بل بھیجوایا جائے۔حاکم خوست نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو اطلاع دی - کہ ایسا حکم آیا ہے۔جب مولوی عبد الرحمن خان صاحب کو علم ہوا تو وہ روپوش ہو گئے۔اس پر امیر عبدالرحمن خان نے حکم دیا کہ ان کا تمام مال و اسباب ضبط کر لیا جائے اور ان کے اہل وعیال کو گرفتار کر کے کا بل بھجوا دیا جائے۔جب مولوی عبد الرحمن خان صاحب کو اپنے اہل و عیال کی گرفتاری کے متعلق حکم کا علم ہوا تو خود ہی کا بل چلے گئے اور امیر عبدالرحمن خان کے پیش ہو گئے۔امیر نے ان سے پوچھا کہ تم افغانستان سے بلا اجازت باہر کیوں گئے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں سرکار کی خدمت کے لئے قادیان گیا تھا اور وہاں سے آپ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں لایا ہوں۔امیر نے ان سے کتابیں لے کر انہیں قید خانہ بھجوا دیا۔امیر عبدالرحمن خان کو شکایت کئے جانے کا سبب یہ تھا کہ مولوی صاحب نے علی الاعلان حاکموں ، افسروں اور عوام تک یہ خبر پہنچا نا شروع کر دی تھی کہ قادیان میں ایک مصلح کا ظہور ہو گیا ہے۔مجھے صحیح معلوم نہیں کہ ان سے قید میں کیا سلوک کیا گیا۔سنا یہی ہے کہ ان کے منہ پر تکیہ رکھ کر دم بند کر کے مار دیا گیا۔(۲۲) جناب قاضی محمد یوسف صاحب بیان کرتے ہیں کہ مولوی عبدالرحمن صاحب آخری دفعه دسمبر 12ء میں قادیان گئے تھے اور واپسی پر پشاور کے راستہ اپنے ملک گئے۔پشاور میں وہ جناب خواجہ کمال الدین صاحب احمدی وکیل کے بالا خانہ پر بیرون کا بلی دروازہ میں مقیم رہے۔ان دنوں میں سرحدی علاقوں میں افغان غازی جہاد بالسیف کے غلط تصور کی وجہ سے بے گناہ انگریزوں کے ناحق قتل میں مصروف رہتے تھے۔انہیں ایام میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رسالہ جہاد کے بارہ میں لکھا تھا جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جہاد کی حقیقت واضح کی گئی تھی اور اس قسم کے قتال کو خلاف منشاء اسلام ثابت کیا تھا۔