شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 53 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 53

53 نے مجھے شناخت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے قرآن ہے جس نے آپ کی طرف میری رہبری کی اور فرمایا کہ میں ایک ایسی طبیعت کا آدمی تھا کہ پہلے سے فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ زمانہ جس میں ہم ہیں اس زمانہ کے اکثر مسلمان اسلامی روحانیت سے بہت دور جا پڑے ہیں۔وہ اپنی زبانوں سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے مگر اُن کے دل مومن نہیں۔اور اُن کے اقوال اور افعال بدعت اور شرک اور انواع و اقسام کی معصیت سے پُر ہیں۔ایسا ہی بیرونی حملے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔اور اکثر دل تاریک پردوں میں ایسے بے حس و حرکت ہیں کہ گویا مر گئے ہیں اور وہ دین اور تقویٰ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے ، جس کی تعلیم صحابہ رضی اللہ عنہم کو دی گئی تھی اور وہ صدق اور یقین اور ایمان جو اس پاک جماعت کو ملا تھا بلا شبہ اب وہ باعث کثرت غفلت کے مفقود ہے اور شاذ نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے۔ایسا ہی میں دیکھ رہا تھا کہ اسلام ایک مردہ کی حالت میں ہو رہا ہے اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پردہ غیب سے کوئی منجانب اللہ مجدد دین پیدا ہو۔بلکہ میں روز بروز اس اضطراب میں تھا کہ وقت تنگ ہوتا جا تا ہے۔انہی دنوں میں یہ آواز میرے کانوں تک پہنچی کہ ایک شخص نے قادیان ملک پنجاب میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔(۱۴) 66 سیداحمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب بڑے محقق انسان تھے۔آپ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ زمانہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس وقت کوئی مصلح مبعوث کیا جائے۔مولوی شان محمد صاحب سے روایت ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ اور علامات کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔فرماتے تھے زمانہ تو یہی ہے اب دیکھو خدا تعالیٰ کسے مامور کرتا ہے۔بعض دفعہ یہ بھی فرماتے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے دانتوں کے درمیان کچھ فاصلہ ہوگا پھر مسکرا کر کہتے کہ فاصلہ تو میرے دانتوں کے درمیان بھی ہے مگر پتہ نہیں خدا کو کیا منظور ہے۔آپ یہ باتیں اپنی خاص مجلسوں میں اپنے خاص خاص شاگردوں سے کیا کرتے تھے۔(۱۵)