شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 54
54 سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اطلاع ملنا اور حضرت صاحبزادہ صاحب کا بلا توقف ایمان لانا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جب خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فستق اور معصیت اور گمراہی سے بھرا ہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا۔۔۔بذریعہ وحی الہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس امت کے لئے ابتداء سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے سے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا۔جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ میں ہی ہوں۔۔۔پھر فرمایا: 66 انہیں دنوں میں جبکہ متواتر یہ وحی خدا کی مجھ پر ہوئی اور نہایت زبر دست اور قوی نشان ظاہر ہوئے اور میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا دلائل کے ساتھ دنیا میں شائع ہوا خوست علاقہ حدود کا بل میں ایک بزرگ تک جن کا نام اخوندزادہ مولوی عبداللطیف ہے کسی اتفاق سے میری کتا ہیں پہنچیں چونکہ وہ بزرگ نہایت پاک باطن اور اہل علم اور اہل فراست اور خدا ترس اور تقویٰ شعار تھے اس لئے ان کے دل پر ان دلائل کا قومی اثر ہوا اور ان کو اس دعویٰ کی تصدیق میں کوئی دقت پیش نہ آئی اور ان کی پاک کانشنس نے بلا توقف مان لیا کہ یہ شخص من جانب اللہ ہے اور یہ دعویٰ صحیح ہے۔تب انہوں نے میری کتابوں کو نہایت محبت سے دیکھنا شروع کیا اور ان کی روح جو نہایت صاف اور مستعد تھی میری طرف کھینچی گئی۔یہاں تک کہ ان کے لئے بغیر ملاقات کے دور بیٹھے رہنا نہایت دشوار ہو گیا۔وو۔۔۔جب وہ میرے پاس پہنچا تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ کن دلائل سے