شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 52
52 زادہ اور شاہزادہ کے لقب سے اُس ملک میں مشہور تھے اور شہید مرحوم ایک بڑا کتب خانہ حدیث اور تفسیر اور فقہ اور تاریخ کا اپنے پاس رکھتے تھے اور نئی کتابوں کے خریدنے کے لئے ہمیشہ حریص تھے اور ہمیشہ درس تدریس کا شغل جاری تھا اور صد ہا آدمی ان کی شاگردی کا فخر حاصل کر کے مولویت کا خطاب پاتے تھے۔لیکن با ایں ہمہ کمال یہ تھا کہ بے نفسی اور انکسار میں اس مرتبہ تک پہنچ گئے تھے کہ جب تک انسان فنافی اللہ نہ ہو یہ مرتبہ نہیں پاسکتا۔ہر ایک شخص کسی قدر شہرت اور علم سے محجوب ہو جاتا ہے اور اتنے تئیں کچھ چیز سمجھنے لگتا ہے اور وہی علم اور شہرت حق طلبی سے اس کو مانع ہو جاتی ہے۔مگر یہ شخص ایسا بے نفس تھا کہ باوجود یکہ ایک مجموعہ فضائل کا جامع تھا مگر تب بھی کسی حقیقت حقہ کے قبول کرنے سے اس کو اپنی علمی اور عملی اور خاندانی و جاہت مانع نہیں ہوسکتی تھی“۔(۱۲) جناب قاضی محمد یوسف صاحب کا بیان ہے کہ امیر عبد الرحمن خان نے آپ کے متعلق ایک فرمان میں اپنے قلم سے لکھا ہے کہ کاش افغانستان میں آپ جیسے ایک دو عالم اور بھی ہوتے اور خوست کے تمام خوانین، وکلاء اور معتبرین کا آپ کے متعلق اقرار نامہ موجود ہے کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو ہم پر ہر لحاظ سے فوقیت حاصل ہے اور انہیں ہم اپنا سرکردہ تسلیم کرتے ہیں۔(۱۳) سیدا حمد نور بیان کرتے ہیں کہ : ”حضرت صاحبزادہ صاحب کو کئی ہزار حدیثیں یاد تھیں۔امیر عبدالرحمن خان بھی اس بات کا معترف تھا کہ ہمارے ملک میں آپ ہی ایسے عالم با عمل ہیں جن کو اتنی حدیثیں یاد ہیں۔حالات زمانہ کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت صاحبزادہ صاحب کو کسی مصلح کے ظہور کا انتظار تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وو ” جب وہ میرے پاس پہنچا تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ کن دلائل سے آپ