شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 394
394 ☆ بزرگ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ ( یعنی حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید ) مجھے خواب میں نظر آئے تو میں نے انہیں پہلے سے زیادہ خوش پایا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت کی ملاقات کا نتیجہ تھا۔(۳۶) مولوی عبدالغفارخان صاحب صحابی برا د یا کبر بزرگ صاحب آپ منگل قوم کی شریف زئی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔موضوع بل خیل، خوست، بہ پکتیا کے رہنے والے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے بعد قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے۔ان کے بیٹے عبداللہ خان صاحب صحابی قادیان میں بطور محافظ مختلف دفاتر میں کام کرتے رہے۔تقسیم ملک کے بعد قادیان میں بطور در ولیش مقیم رہے۔عبداللہ خان صاحب کے بیٹے عبد الرحیم عادل صاحب پاکستان میں مقیم ہیں۔مولوی عبد الغفار خان صاحب کے افغانستان میں قیام کے دوران حالات جب حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب شہید ۱۹۰۳ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مل کر اپنے وطن واپس گئے تو سید گاہ - خوست آنے کے کچھ عرصہ کے بعد آپ نے علی الاعلان تبلیغ احمدیت کا آغاز کر دیا۔اور علاوہ مقامی طور پر تبلیغ کرنے کے سرداران کا بل کو تبلیغی خطوط لکھے۔ان میں سے ایک خط مستوفی الملک برگیڈئیر مرزا محمد حسین خان کو توال کے نام تھا۔دوسرا خط سردار شاہ خاصی عبد القدوس خان اعتماد الدولہ کو لکھا۔تیسرا خط مرزا عبدالرحیم خان دفتری کو۔چوتھا خط حاجی باشی شاہ محمد کو اور پانچواں خط قاضی القضاۃ عبد العزیز کے نام تھا۔ان خطوط میں آپ نے تحریر فرمایا کہ میں حج کے ارادہ سے روانہ ہوا تھا۔لیکن ہندوستان میں میری ملاقات حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے ہوئی جو قادیان میں رہتے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کی اصلاح کے لئے