شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 393
393 میں جب اندر داخل ہوا تو ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔میرے بعد میاں چراغ الدین صاحب مرحوم لا ہوری تشریف لے آئے۔وہ میرے پیچھے ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔پھر مولوی محمد احسن صاحب امروہوی تشریف لائے تو ان کے لئے اندر سے ایک چھوٹی سی چار پائی لائی گئی۔وہ اس پر بیٹھ گئے۔ان کے پاس ایک کتاب تھی۔انہوں نے اس کتاب کو کھول کر کہا کہ یہ کتاب حسن اشعری ہے اور اس میں ایک جگہ سے یہ پڑھا کہ نبوت تشریعی منع ہے مطلق نبوت منع نہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ متغیر ہو گیا۔حضور نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ کہنا کہ مطلق نبوت جاری ہے کفر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شریعت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی اور برکت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی۔نہ کوئی اپنی شریعت لا سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی برکت سے نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔بلکہ یہ سب کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہو سکتا ہے۔(۳۴) ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب مسجد مبارک میں داخل ہوئے۔بحث یہ تھی کہ مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک مضمون سلسلہ کے مخالفوں کے متعلق لکھا تھا۔مولوی محمد احسن صاحب کہتے تھے کہ آپ نے یہ مضمون بہت سخت لکھا ہے۔مولوی عبدالکریم صاحب فرماتے تھے کہ میں نے تو کہا تھا کہ مجھ سے مضمون مت لکھوا ؤ۔میں سخت لکھوں گا۔یہ گفتگو بڑھتے بڑھتے تیز ہو گئی۔اتنے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے۔آپ نے دیکھتے ہی فرمایا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتَ النَّبِيِّ اس پر وہ دونوں خاموش ہو گئے۔تب حضور دونوں کو نصیحت فرمانے لگے جس میں اختلاف سے اپنی نفرت کا اظہار فرمایا (۳۵) نوٹ: اس مضمون کی روایت سیرت المہدی مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب میں بھی درج ہے لیکن دونوں میں الفاظ اور راویوں کا اختلاف ہے۔سید مسعود احمد مرتب رسالہ ھذا