شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 362
362 پتھروں کے ڈھیر کے کچھ نظر نہ آ سکتا تھا۔سوال کیا کہ کیا آپ نے بھی پتھر پھینکے تھے۔کہا ہاں میں نے بیں چھپیں پھینکے ہوں گے۔پھر پوچھا کہ وہ پتھر کتنے بڑے بڑے ہوں گے۔جولوگوں نے ان پر برسائے۔کہا کہ بعض دو دو تین تین سیر وزن کے ہونگے۔پہاڑی ہے۔اس لئے جو کسی کے ہاتھ آیا وہی دے مارا۔پھر جب یہ سوال کیا کہ آپ کے پتھر پھینکنے کے وقت کیا خیالات تھے۔تو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اس وقت تو کچھ اور ہی خیالات تھے۔‘ (۱۲) جناب فضل کریم صاحب سرگودھا مزید لکھتے ہیں کہ ضمنا میں ایک واقعہ بھی بیان کر دیتا ہوں جس کا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی اپنی ایک تقریر میں ذکر فرمایا تھا: ایک شخص نے جو شاید راولپنڈی کے علاقے کا رہنے والا ہے۔اپنے ایک دوست کو کا بل سے۔۔۔۔۔خط لکھا کہ وہ دونوں قادیانی جن کی سنگساری کے لئے آپ اتنی مدت انتظار کرتے رہے اور اپنی واپسی ہندوستان ( کا ) التواء کرتے رہے۔فلاں فلاں تاریخ کوسنگسار کئے گئے۔میں نے آپ کی طرف سے بھی چار پتھر پھینکے تا کہ آپ بھی اس ثواب سے محروم نہ رہیں۔آپ کو مبارک ہو۔جب یہ خبر اس شخص نے پڑھی تو (اپنے ) دوستوں سے خوشی خوشی اس کا ذکر کیا۔اور ہمیں بھی (یعنی احمدی احباب کو ) طنز آیہ خبر سنائی گئی۔گویا کہ ان لوگوں کو ایک فتح عظیم نصیب ہوئی۔(اس وقت تک ہمیں قادیان سے اطلاع نہ پہنچی تھی ) (۱۳) الله و انا اليهِ رَاجِعُون مکذبین کا انجام ۱۹۲۹ء میں سردار علی جان کو بچہ سقاؤ کے حکم سے کابل میں ، سپاہیوں کی زیر نگرانی پھرایا گیا۔اور اس کے بعد توپ کے منہ میں ڈال کر اڑا دیا گیا جس سے وہ فوت ہو گیا۔سردار علی جان کو امیر امان اللہ خان نے خوست کی بغاوت رفع کرنے کے لئے باغیوں کے لیڈر یعنی ملا عبد اللہ معروف بہ ملائے لنگ اور اس کے داماد ملا عبدالرشید معروف