شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 363 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 363

363 بہ ملائے دبنگ سے گفت شنید کرنے کے لئے بھجوایا تھا۔باغیوں نے مطالبہ کیا کہ امیر امان اللہ خان قادیانی ہو گیا۔اگر یہ درست نہیں ہے تو اس کو چاہئے کہ اپنے دادا امیر عبدالرحمن خان اور والدا میر حبیب اللہ خان کی طرح چند احمدیوں کو قتل کر وائے۔سردار علی جان نے باغیوں کا یہ مطالبہ تسلیم کر کے امیر امان اللہ خان کو اس پر عمل کرنے کا مشورہ دیا۔جس پر امیر امان اللہ خان نے انصاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تین احمدیوں کو یعنی مولوی نعمت اللہ خان، مولوی عبد الحلیم اور قاری نور علی کو شہید کر وا دیا تھا۔قاضی عبد الرحمن کوہ دامنی نے مولوی نعمت اللہ خان شہید کی سنگساری کا فتویٰ دیا تھا۔اسے بچہ ستاؤ نے ۱۹۲۹ء میں قتل کروا دیا۔بچہ سقا ؤ تا جک قوم سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا وطن کو ہ دامن کے علاقہ میں خوجہ سرائے تھا۔(۱۴) ملآ یان خوست جنہوں نے حکومت افغانستان کو احمدیوں کو شہید کرنے کی ترغیب دی تھی۔ان کے متعلق لکھا ہے کہ خوست کے باغی ملا عبداللہ مشہور بہ ملائے لنگ اور اس کے داماد ملا عبدالرشید ملائے دبنگ کو جب معافی کا وعدہ دے کر کا بل لایا گیا تھا تو کچھ عرصہ تو امیر امان اللہ خان نے ان کو عزت اور احترام کے ساتھ ٹھہرایا لیکن جب بغاوت رفع ہو گئی اور منگل چمکنی جدران وغیرہ قبائل کو دبا دیا گیا اور علاقہ میں مرکزی حکومت افغانستان دوبارہ قائم ہوگئی۔فوجیں واپس چلی گئیں تو امیر امان اللہ خان نے ان لوگوں سے بھی بدعہدی کی۔ان ملاؤں کو دربار میں پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میرا غیور لشکران ملعون اور غدار کتوں کی گردنوں میں پٹہ ڈال کر میرے سامنے لے آیا۔میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اس قسم کے کتوں کو پکڑ کر شیروں کی طرح اپنے پد رعاجز کے پاس لا یا کریں۔بالآ خرا میر امان اللہ خان نے ان کو قتل کروا دیا۔(۱۵)