شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 361
361 همراه ای مقام پر گیا۔جہاں سنگساری ہوتی تھی یعنی شیر پور چھاؤنی کے مقام پر وہاں جا کر ایک جم غفیر دیکھا۔اور لوگ جوق در جوق چلے آرہے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد قاضی القضاۃ ایک ٹانگے پر آئے۔ٹانگے سے اترتے ہی حکم دیا کہ جولان تو ڑ دیئے جائیں اور مجرمان سے کہا گیا کہ اگر وہ کچھ نوافل یا نماز پڑھنا چاہیں تو پڑھ لیں۔دونوں نے دو دو یا چار چار رکعت نماز ادا کی۔مخلوق ہر طرف پہاڑوں کی ڈھلوان پر اونچی جگہ کھڑی تھی۔اور مجرمان نچلی جگہ تھے۔بعد نما ز۔۔۔ان کے عمامے کوٹ اور جوتے اتروا دیئے گئے اور صرف کرتے اور شلوار میں بدنوں پر رہنے دیئے گئے۔پھر پولیس کے آدمیوں نے دونوں کو دھکیل کر اور نچلی طرف کر دیا۔میں نے خود نہیں سنا مگر لوگ کہتے تھے کہ وہ دونوں یہ کہہ رہے تھے کہ روز محشر میں ( معلوم ) ہو گا کہ کون حق پر تھا۔آخر کار قاضی نے پتھر اٹھا کر مارا۔اور اس کا مارنا تھا کہ لوگوں نے جو پہلے سے - پتھروں سے جھولیاں بھرے کھڑے تھے۔بارش کی طرح پتھر برسانے شروع کر دیئے۔۔۔میں ان سے پندرہ میں قدم پر تھا اور بعض لوگ دس پندرہ قدم پر تھے۔یہاں پر میں نے ایک سوال کیا کہ کیا انہوں نے کوئی شیخ پکار کی تو اس کے جواب میں بیان کرنے والے نے کہا کہ میں ان کے نزدیک ہی تھا مگر کوئی چیخ پکار ان کی نہ سنی جب بڑھے ( مولوی عبد الحلیم صاحب) کو پتھر پڑنے شروع ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر سر بسجو د ہو گیا۔حتی کہ اسی حالت میں وہ آدھا پتھروں کے نیچے دب گیا۔پھر ایک پتھر اس کے سر پر ایسا لگا کہ وہ بے قرار ہو کر منہ پر ہاتھ دھرے دوزانو بیٹھ گیا۔جیسے کوئی نماز میں بیٹھتا ہے۔چہرہ اور سر بالکل لہولہان تھے۔آخر اسی حالت میں اس کی جان نکل گئی۔وو دوسرا۔۔۔۔جو کہ نو جوان تھا ( قاری نور علی صاحب) کھڑا رہا۔مگر جب اسے کوئی پتھر لگتا تو وہ گر پڑتا۔پھر کھڑا ہوتا پھر پتھر کھا کر گر پڑتا۔پھر اٹھتا پھر گرتا پھر اٹھنے کی کوشش کرتا۔پھر سنبھل نہ سکا۔آخر کا راسی طرح اس کی بھی جان نکل گئی۔دونوں پر اتنے پتھر برسائے گئے کہ دونوں کے جسم نیچے دب گئے اور سوائے