شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 30
30 50 امیر کی رہائش باغ بالا میں تھی۔آپ اندر گئے اور جلدی باہر آگئے اور سید احمد نور سے فرمایا کہ امیر تو سچ سچ مر گیا۔اسی روز امیر حبیب اللہ خان کو دلکشا سلام خانہ میں دستار بندی کے لئے لایا گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے امیر حبیب اللہ کی خواہش پر اس کے سر پر دستار باندھی آخر میں چند بل قاضی نے باندھے۔یہ کاروائی ایک خاص دربار میں ہوئی۔لوگوں کی تعداد محدود تھی۔عام لوگوں کو نہ بلایا گیا تھا۔سید احمد نور صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب کے ساتھ اندر چلے گئے تھے۔امیر عبدالرحمن خان کی وفات سے حضرت صاحبزادہ صاحب کی کابل میں نظر بندی ختم ہو چکی تھی۔جو مولوی عبد الرحمن کی شہادت کے بعد شروع ہوئی تھی۔امیر حبیب اللہ خان نے آپ سے کہا کہ اگر آپ وطن جانا چاہتے ہیں۔تو خوشی سے جا سکتے ہیں اور آپ کی درخواست پر آپ کو حج پر جانے کی اجازت بھی دے دی۔چنانچہ آپ امیر عبدالرحمن خان کی وفات کے قریباً چار ماہ بعد کا بل سے اپنے وطن سید گاہ واپس آگئے۔(۳۰)