شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 29
29 ملک میں بڑا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔لوگ شیطان سیرت ہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا کوئی دشمن آپ کی شکایت امیر عبدالرحمن خان کے پاس کر دے۔اور وہ آپ کو کابل بلوائے اس لئے بہتر ہے کہ آپ خود ہی امیر کے پاس ہو آئیں۔تا کہ کوئی آپ کی رپورٹ نہ کر سکے۔آپ معزز اور پوزیشن والے آدمی ہیں۔آپ سے مل کر امیر بہت خوش ہو گا اور آپ سے عزت و احترام سے پیش آئے گا۔چنانچہ آپ کچھ آدمیوں کے ساتھ کابل چلے گئے۔وہاں ان دنوں امیر کا در بار رات کو ہوا کرتا تھا۔آپ چند دن کا بل میں ٹھہرے۔جب دربار میں حاضر ہوئے تو امیر عبدالرحمن خان آپ سے مل کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ آپ کے بارے میں مجھے رپورٹیں تو ملی تھیں مگر میں نے ان کو نظر انداز کر دیا اور میں آپ کے آنے سے بہت خوش ہوا ہوں۔جب امیر سے ملاقات ہو چکی تو صاحبزادہ صاحب کو گھر واپس جانے کا خیال آیا لیکن بعض درباریوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ یہ امیر قابو میں نہیں۔ایسا نہ ہو کہ آپ گھر پہنچیں اور پیچھے آپ کو واپس بلانے کے لئے آدمی بھجوا دئیے جائیں۔اسلئے بہتر ہے کہ آپ یہیں ٹھہر جائیں۔اس پر آپ نے امیر عبدالرحمن خان سے کہا کہ میں کا بل میں ہی رہنا چاہتا ہوں۔یہ سن کر امیر نے اس پر بہت پسندیدگی کا اظہار کیا اور آپ کا بل میں رہنے لگے۔(۲۹) امیر عبدالرحمن خان کی وفات مولوی عبد الرحمن ۲۰ جون ۱۹۰۱ء کو شہید کئے گئے۔اس کے جلد بعدا میر عبدالرحمن خان پر فالج کا حملہ استمبر ۱۹۰۱ء کو ہوا۔جس سے اس کا داہنا پہلو بے کار ہو گیا۔ماہر ڈاکٹروں اور طبیبوں نے اس کے علاج میں بہت کوشش کی لیکن اس کی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی۔امیر عبدالرحمن خان ، حضرت صاحبزادہ صاحب کو بزرگ سمجھتا تھا۔اس واسطے اس بیماری میں اس کی خواہش تھی کہ آپ اس کے پاس موجود رہا کریں۔چنانچہ آپ روزانہ امیر کو ملنے جایا کرتے تھے۔ایک روز آپ امیر کو دیکھ کر آئے تو سید احمد نور سے فرمایا کہ امیر سخت بیمار ہے۔جانے والا ہے صرف آج کی رات زندہ رہے گا۔صبح حضرت صاحبزادہ صاحب کو بلوایا گیا۔ان دنوں