شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 308 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 308

308 کو نا جائز قرار دیا اور اُن کو آزادی دے دی تھی۔جشن استقلال کا افتتاح کرتے ہوئے امیر امان اللہ نے جو تقریر کی اس میں خلاصہ ان اصلاحات کا ذکر ہے اس تقریر میں امیر نے کہا کہ افغانستان اپنا دس سالہ دور ختم کر چکا ہے۔اور آج ہم گیارھویں جشن کا آغاز کر رہے ہیں۔اگر چہ ہم نے اس ختم ہونے والے دور میں بہت کچھ حاصل کیا ہے لیکن بہ ایں ہمہ ہم اُس کا عشر عشیر بھی مکمل نہیں کر سکے جو میرے پیش نظر ہے۔میرے عزائم پہاڑوں کی مانند بلند ہیں اور مقصد بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ میں افغانستان کو دنیا کی عظیم الشان ترقی یافتہ ممالک کے دوش بدوش لاؤں میں نے گذشتہ دس سالوں میں افغانستان کے فرزندوں کو تعلیم حاصل کرنے یورپ بھیجا اب میں آئندہ سے اس ملک کی بچیوں کو بھی زیادہ سے زیادہ تعداد میں بیرون ممالک میں حصول تعلیم کے لئے بھجواؤں گا۔تا کہ نہ صرف ہمارے بچے بلکہ ہماری بچیاں بھی زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر ملک وقوم کی خدمت کرنے کے قابل ہوسکیں کوئی قوم بغیر تعلیم کے ترقی نہیں کر سکتی افغانستان کی ترقی بھی نوجوانوں کے تعلیم یافتہ ہونے پر موقوف ہے میں لڑکیوں کے والدین کو تلقین کرتا ہوں کہ وہ اس مبارک اور اہم کام میں اپنی حکومت کا ہاتھ بٹائیں اور جس وقت اُن کی بچیوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے بھجوایا جائے تو وہ ہرگز پس و پیش نہ کریں۔لڑکیوں کا پہلا گروپ عنقریب حکومت کے خرچ پر تر کی بھجوایا جائے گا اور بعد ازاں تھوڑے تھوڑے وقفوں سے مزید گروپ بھی بھیجے جائیں گے۔دوسرا مسئلہ جس کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ایک سے زائد بیویاں کرنے کا ہے میں نے حکم دے دیا ہے کہ آئندہ اس شخص کو حکومت کی ملازمت میں نہ لیا جائے جس کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں کیونکہ جو شخص دو یا زائد بیویاں رکھے گا وہ لا محالہ اپنے اخراجات جائز ذریعہ سے پورا نہ کر سکے گا اور رشوت کے ذریعہ دولت حاصل کرنے پر مجبور ہو گا۔لوگ پوچھتے ہیں کہ شریعت میں چار بیویاں تک رکھنے کی اجازت ہے پھر کیا سبب ہے کہ حکومت ہمیں اس سے منع کرتی ہے۔میں کہتا ہوں کہ قرآن میں صرف ایک ہی بیوی رکھنے کا حکم آیا ہے دویا