شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 307
307 امیر امان اللہ خان خود لوئی جرگہ کا صدر تھا اور جملہ تجاویز حکومت کے اراکین کی طرف سے منظور ہو کر بحث کے لئے پیش ہوتی تھیں ناظم جرگہ کی اجازت سے عام نمائندگان بھی ملک کی خیر و بہبودی کے لئے تجاویز پیش کرنے کے مجاز تھے۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے بعض وزیروں اور نمائندگان جرگہ میں باہم خفیہ اتحاداس امر پر ہو چکا تھا کہ جرگہ میں ناگوار امور کو بھی برداشت کر لیا جائے اور بادشاہ کی جدید اصلاحات سے اتفاق کر کے ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔لیکن جب لوئی جرگہ سے فارغ ہو کر نمائندگان اپنے اپنے حلقہ میں پہنچیں تو عامة الناس میں امیر امان اللہ خان اور اس کی اصلاحات کے خلاف زور شور سے ایجی ٹیشن شروع کر دیں۔اس جرگہ میں جو فیصلے کئے گئے اور جو افغانستان کے علماء پیروں اور عوام کے لئے ناگوار ہو سکتے تھے ان میں سے بعض یہاں درج کئے جاتے ہیں۔(الف) بیرق کی تبدیلی ، افغانستان کا جھنڈا جس کا رنگ سیاہ تھا اور اس پر مسجد و محراب و ممبر کا نقشہ تھا۔بادشاہ اس کو بدل دینا چاہتا تھا اب اس کے بجائے بعض یورپین ممالک کی تقلید میں سے رنگا جھنڈا بغیر کسی نقش کے تجویز کیا گیا تھا۔نمائندگان چاہتے تھے کہ اس جھنڈے پر اللہ اور محمد م ، ضرور لکھا جائے لیکن بادشاہ کو یہ منظور نہ تھا آخر کافی بحث کے بعد بادشاہ نے جھنڈے پر اللہ لکھوانا منظور کر لیا اور محمد” ، “ لکھوانا کسی طرح منظور نہ کیا۔اس واقعہ سے نمائندگان کے دلوں پر بادشاہ کی لامذہبیت اور دہریت کا نقشہ بیٹھ گیا۔بادشاہ کا خیال تھا کہ ملک کی معاشرتی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ مردوں کو ایک بیوی کی اجازت ہو۔جب کہ بالعموم امیر لوگ دو دو، تین تین، چار چار بیویاں کر لیا کرتے تھے اس کے علاوہ لونڈیوں کا بھی دستور تھا اور افغانستان کے مذہبی لیڈ ر لونڈیاں رکھنے کو اسلام کی تعلیم کے مطابق اور جائز قرار دیتے تھے۔امیر امان اللہ خان نے لونڈی غلام رکھنے کے طریق