شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 309 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 309

309 زیادہ بیویاں رکھنے کی صورت میں ایسی کڑی شرط لگا دی گئی ہے جس پر عمل کرنا انسان کے بس کی بات نہیں اور وہ شرط یہ بیان ہوئی ہے کہ ”بشر طیکہ تم ان میں عدل قائم رکھ سکو اس لئے اصل میں خدا کی مرضی یہی ہے کہ ایک مرد ایک وقت میں ایک ہی بیوی پر قانع رہے۔مردوں کو غور کرنا چاہئے کہ جس طرح وہ دو دو تین تین بیویاں رکھنے کے مشتاق ہیں اسی طرح اگر عورتیں بھی ایک سے زیادہ شوہر بیک وقت رکھنا چاہیں تو کیا وہ اس صورت حال کو برداشت کر سکیں گے؟ پس اگر مرد عورتوں کے اس فعل کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کے بالمقابل عورتیں بھی مردوں کی ایک سے زائد بیویوں کو کیوں برداشت کریں؟ میری حکومت میں عورتیں آج سے بالکل آزاد ہیں اور میرا قانون اُن کے حقوق اور آزادی کی حفاظت کے لئے تیار ہے اور عورتوں کو اختیار ہے کہ اگر اُن پر شو ہر ظلم کریں تو وہ عدالت میں ان کے خلاف چارہ جوئی کر کے اگر چاہیں تو طلاق بھی لے سکتی ہیں۔(۸۳) امیر امان اللہ خان کی حکومت کے خلاف مخالفت کی ابتداء امیر امان اللہ خان نے یورپ سے واپسی کے بعد لوئی جرگہ اور گیارھویں یوم استقلال کے موقعہ پر کابل اور پغمان میں اصلاحات جاری کرنے کے بارہ میں جو تقاریر کیں ان کا پہلے ذکر آ چکا ہے۔وہ نمائندگان جو لوئی جرگہ کی کارروائی کا برا اثر لے کر اپنے وطنوں کو لوٹے اب وہ اپنے تاثرات اور منفی خیالات دور دراز علاقوں میں منتشر بکھرے ہوئے قبائل کو پہنچا رہے تھے جن کو سن کر یہ علم سے نا آشنا قبیلے اپنی حکومت کی لامذہبیت اور خلاف شریعت احکام و قوانین پر سخت چین بجبین ہو رہے تھے۔اس طرح ہر جگہ حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھتی جا رہی تھی اور حکومت کے وہ وزیر جو کسی وجہ سے امیر سے ناراض تھے اپنی منافقانہ چالیں چل کر حالات کو سنوارنے کی بجائے بگڑنے میں مدد دے رہے تھے اور انگاروں پر تیل چھڑک رہے تھے وہ اپنے مفاد کی خاطر جرگہ کے نمائندگان سے رابطہ رکھے ہوئے تھے اور ان کو شورش پر اکساتے