شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 87
87 مرحوم کے دونوں شانوں کے نیچے اپنے دست مبارک ڈال کر انہیں اٹھایا اور فرمایا۔صاحبزادہ صاحب ایں جائز نیست۔ان کے اٹھنے پر حضور نے دعا کی اور انہیں رخصت فرمایا - (۷۳) میاں اللہ یا رصاحب ٹھیکیدا رسا کن بٹالہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو الوداع کہنے موڑ تک گئے تو واپسی پر ایک جو ہڑ کے پاس آ کر ٹھہر گئے اور اپنے اصحاب سے کہا کہ وہ شہزادہ صاحب کے خاتمہ بالخیر کے لئے دعا مانگیں۔چنانچہ حضور نے ان کے لئے بڑی لمبی دعا کی۔(۷۴) جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے حضرت صاحبزادہ صاحب کو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ عیدالاضحیٰ کے بعد قادیان سے روانہ ہوں۔اس سال عید ار مارچ ۱۹۰۳ء کو ہوئی تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب قادیان السلام سے واپس اپنے وطن کی طرف اار مارچ کو یا اس کے بعد روانہ ہوئے تھے۔(۷۵) جناب قاضی محمد یوسف صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف قادیان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہو کر براستہ لا ہور، کیمبل پور، کوہاٹ ،ٹل اپنے وطن خوست واپس گئے تھے۔(۷۶) مولوی عبدالستار خان صاحب نے بیان کیا کہ جب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب قادیان سے خوست واپس جا رہے تھے تو راستہ میں میں نے ان سے کہا کہ وہاں آپ کو قتل کر ڈالیں گے۔اس پر آپ نے فرمایا ”من نہ میرم“ اور یہ بھی کہا ” موت بامن نہ آئید۔جب آپ شہید ہو گئے تو رویا میں مجھے ان کی زیارت ہوئی۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ تو کہتے تھے موت با من نہ آئید۔انہوں نے جواب میں فرمایا ” کار ہائے خدا ازیں ہم عظیم است واقعه سنگساری کے متعلق میں نے دریافت کیا کہ آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی فرمایا مجھے کوئی دکھ نہیں ہوا اور میں نے کوئی تکلیف محسوس نہیں کی۔