شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 86 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 86

86 وہ سڑک پر حضور کے قدموں میں گر پڑے اور جدائی کے غم کے مارے ان کی چیخیں نکل گئیں اور زار زار رونے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بڑی مشکل سے اٹھایا اور تسلی دی اور رخصت کیا۔(۷۰) حضرت مولانا شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب صاحبزادہ صاحب واپس افغانستان جانے لگے تو وہ کہتے تھے کہ میرا دل یہ کہتا ہے کہ میں اب زندہ نہیں رہوں گا۔میری موت آن پہنچی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس ملاقات کو آخری ملاقات سمجھتے تھے۔رخصت ہوتے وقت وہ حضور کے قدموں پر گر کر زار زار رونے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں اٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔مگر وہ حضور کے قدموں پر گرے رہے۔آخر آپ نے فرمایا الأمرُفَوق الادب اس پر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور بڑی حسرت کے ساتھ رخصت ہوئے۔(اے) جب صاحبزادہ صاحب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہوئے تو اس وقت سید احمد نور بھی موجود تھے۔انہوں نے اس وقت حضور کی خدمت میں عرض کی کہ وہ تو حضور کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے قادیان میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت تم صاحبزادہ صاحب کے ساتھ چلے جاؤ۔بعد میں تم قادیان آ جاؤ گے۔(۷۲) حاجی محمد صدیق صاحب پٹیالوی بیان کرتے ہیں : صاحبزادہ شہید عبداللطیف مرحوم جب قیام دار الامان سے واپس کا بل جانے لگے تو ان کی سواری کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رتھ منگوایا۔حضور خدام کے ساتھ ان کو وداع کرنے کے لئے پیدل چلے اور خالی رتھ ساتھ آتا گیا۔جب حضور نہر کی طرف پہنچے تو رتھ کو ٹھہرا لیا اور اس کے پاس کھڑے ہو کر صاحبزادہ صاحب سے گفتگو کر تے رہے۔اس دوران میں صاحبزادہ صاحب نے عرض کی کہ مجھے مرنے کا تو کچھ فکر نہیں ہاں میرے لئے استقلال کی دعا فرمائیں تا اللہ تعالیٰ مجھے ثابت قدم رکھے۔وہ باتیں کرتے جاتے تھے اور زار زار رور ہے تھے۔اس دوران دفعہ حضور کے پاؤں پر گر پڑے۔اس پر حضور خود جھکے اور شہید۔