شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 88 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 88

88 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ مجھے خواب میں نظر آئے تو میں نے انہیں پہلے سے زیادہ خوش پایا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت کی ملاقات کا نتیجہ تھا۔(۷۷) سید احمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب واپسی کے سفر میں قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔لاہور چند روز گمٹی بازار کی ایک مسجد میں ٹھہرے جو میاں چراغ الدین صاحب کے مکان کے پاس تھی۔لاہور میں بعض لوگ آپ کو ملنے آئے۔وہ چکڑالوی عقیدہ رکھتے تھے اور اپنے عقائد پیش کر کے آپ کی رائے دریافت کی۔آپ نے فرمایا ایسا عقیدہ رکھنے والا مجنون ہے اور اگر قصداً ایسا عقیدہ کرتا ہے تو کافر ہے۔لا ہور میں آپ نے بعض کتابیں خریدیں اور ان کی جلد میں بندھوا لیں۔لاہور میں چند روز قیام کیا پھر وہاں سے بذریعہ ریل روانہ ہوئے۔(۷۸) راستہ میں جہاں بھی قیام ہوتا تو جن لوگوں سے ملاقات ہوتی ان سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ضرور کرتے۔(۷۹) کوہاٹ سے بنوں کا سفر ٹم ٹم کے ذریعہ کیا۔ٹم ٹم میں بھی قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے۔عصر کی نماز کا وقت ہوا تو اتر کر باجماعت نماز پڑھائی۔اس دوران میں شدید بارش شروع ہو گئی لیکن آپ نے پرواہ نہ کی اور نماز پڑھتے رہے۔خرم مقام میں ایک سرائے میں قیام کیا۔وہاں آپ نے ایک بکری منگوا کر ذبح کی اور کھانا تیار کر وایا۔خود بھی کھایا اور سرائے میں مقیم لوگوں کو بھی کھلایا۔صبح آگے روانہ ہوئے یہاں تک کہ بنوں پہنچ گئے۔بنوں میں آپ نے چند روز قیام فرمایا۔واپسی کے سفر کے دوران حضرت صاحبزادہ صاحب نے ہمیں بتایا کہ مجھے الہام ہوتا ہے کہ اذْهَبُ إِلَى فِرْعَوْنَ (۸۰) حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ : مولوی صاحب جب سرزمین علاقہ ریاست کابل کے نزدیک پہنچے تو علاقہ انگریزی میں ٹھہر کر بریگیڈیئر محمد حسین کو توال کو جو ان کا شاگرد تھا ایک خط لکھا کہ آپ امیر صاحب سے میرے آنے کی اجازت حاصل کر کے مجھے اطلاع دیں۔تو امیر صاحب کے