شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 280
280 ایسی حرکت کی ہوگی جس کی سزا یہی ہوگی کہ اُن کو سنگسار کر دیا جائے (۶۰) اخبار مسلم راجپوت اپنے ۱۰ ستمبر ۱۹۲۴ ء کے شمارہ میں اس شہادت پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھتا ہے: افغانستان میں جب سے امیر امان اللہ خان تخت نشین ہوئے ہیں پہلا سا مذہبی تعصب نہیں رہا۔سب مذہب کے لوگوں کو آزادی حاصل ہے۔ہندو اور سکھ آزادانہ اپنی مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں اور اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کرتے ہیں کسی قسم کا تعرض نہیں۔تو باور نہیں آتا کہ کسی شخص کو محض اس وجہ سے کہ وہ احمدی عقیدہ رکھتا ہے۔سنگسار کرنے کا حکم صادر ہوا ہو۔ممکن ہے کہ اس سے کوئی اور شدید جرم سرزد ہوا ہوا اور احمدی ہونے کی وجہ سے یہ خیال کر لیا گیا ہو کہ اس کو احمدی ہونے کی وجہ سے یہ سزا دی گئی ہے (۶۱) بعد میں اخبار سیاست نے ۸ ستمبر ۱۹۲۴ء کو حکومت افغانستان کو مشورہ دیا کہ ' حکومت افغانستان مرزائیوں کو حدو د افغانستان سے نکال دے (۶۲) ار ستمبر ۱۹۲۴ء مولوی نعمت اللہ صاحب کو شہید کرنے کے بارہ میں جمعیۃ العلماء دیوبند کا امیر امان اللہ خان کو تار اور اس کا امیر کی طرف سے جواب جمعیۃ العلماء دیو بند کو ان کے پیغام کے جواب میں امیر کا بل نے لکھا ہے: آپ کا پیغام برقی مورخہ ۶ ار ستمبر موصول ہوا جس میں آپ نے ایک فیصلہ شرعی کی تائید کی ہے اور اس سے موافقت کا اظہار کیا ہے۔حکومت افغانستان اس تائید اور موافقت کے لئے آپ حضرات کا شکر یہ ادا کرتی ہے (۶۳)