شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 281
281 ۱۰ فروری ۱۹۲۵ء کو افغانستان میں دو احمد یوں قاری نور علی صاحب اور مولوی عبد العلیم صاحب کی شہادت بذریعہ سنگساری کابل میں دو اور بیگناہوں کا خون ہمارے دو احمدی بھائی سنگسار کر دیئے گئے پشاور ۱۲ / فروری - کابل سے خبر پہنچی ہے کہ۔مذہبی جنون کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ دو سیدھے سادھے قادیانی (احمدی ) دکاندار ۱۰ر فروری کو سپرنٹنڈنٹ پولیس اور پندرہ کانسٹیبلوں کی موجودگی میں سنگسار کئے گئے۔(۶۴) تفصیلی حالات کا انتظار ہے ہمیں افسوس ہے کہ حکومت کا بل اپنے سراسر خلاف شریعت طرز عمل سے اسلام کو بد نام کر رہی ہے اور اس خدائے قہار و توانا کا خوف نہیں کرتی جو بے گناہوں کے خون کا انتقام لینے والا ذوبطش شدید ہے (۶۵) کابل میں دو احمدیوں کے سنگسار کئے جانے کی خبر پہنچنے پر حضور نے مجلس شوریٰ منعقد فرمائی۔۔۔۔عصر کے وقت تمام احمدیان قادیان کا ایک جلسہ ہوا جس میں احمدیوں کی مظلومانہ سنگساری پر حکومت کابل کے ظالمانہ فعل پر اظہار ملامت کیا گیا کیونکہ یہ اسلام پر خطر ناک حملہ اور اُسے بد نام کرنے والا ہے حکومت کا بل اس طرح احمدیت کی بڑھتی ہوئی ترقی کو روک نہیں سکتی خدا کے فضل سے ہر ایک احمدی کو وہ صراط عشق پر ثابت قدم پائے گی۔اس مضمون کا ریزولیوشن بہ اتفاق پاس ہوا۔اخیر میں حضرت خلیفقہ اس نے صبر وسکون کی ہدایت فرمائی (۲۱) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا پریس کو پیغام ایسوسی ایٹڈ پریس کو آج مورخہ ۱۹ / فروری ۱۹۲۵ء کو حضور ایدہ اللہ نے مندرجہ ذیل پیغام لکھ کر دیا جو اخبارات کو بھجوایا گیا۔” مولوی نعمت اللہ صاحب کی سنگساری کا زخم ابھی مندمل نہیں ہوا تھا کہ کابل گورنمنٹ نے دو اور احمدی تاجروں کو صرف احمدیت کی وجہ سے ۱۰ / فروری کو سنگسار کر دیا