شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 227 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 227

227 نام قید خانہ ہو وہ ہر ملک کی ہی تکلیف دہ جگہ ہوتی ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے ہندوستان کے جیل خانوں کی حالت کو دیکھا وہ کابل کے جیل خانہ کی حالت کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔چہ جائیکہ اس کا کوئی نام تجویز کر سکیں یکے بعد دیگرے نہایت تنگ اور تاریک کوٹھڑیاں ہوتی ہیں۔جن میں ہوا اور روشنی کا قطعاً گذر نہیں ہوتا۔ان میں بند رکھا جاتا ہے۔اور اس مصیبت پر مصیبت یہ ہوتی ہے کہ قیدی کو اپنی خوراک کے لیے خودا نتظام کرنا ہوتا ہے اگر باہر سے کسی نے اس کے لیے کچھ بھیج دیا اور اس تک پہنچ گیا تو اس نے کھا لیا ور نہ بھوکا پڑا ر ہیگا یا اس سے گداگری کرائی جائے گی۔۔۔۔۔والٹی کا بل اپنے ملک کی ترقی اور بہبودی کے لیے کوشاں ہیں یہ بہت مبارک بات ہے لیکن ترقی کے تمام ذرائع سے بڑھ کر بیکس رعایا کو مظالم سے نجات دینا اور تشد دسے بچا کر آرام پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔ورنہ بعض اوقات کسی ایک مظلوم کی آہ بڑی بڑی پائدار اور باعظمت سلطنتوں کا تختہ الٹ سکتی ہے۔پس ہم والٹی کا بل کی خدمت میں نہایت ادب مگر اصرار کے ساتھ یہ عرض کریں گے کہ وہ مظلوم احمدیوں اور اس وقت خاص کر نعمت اللہ خان کے حال زار پر رحم فرما دیں اور اسے قید سے آزاد کر دیں۔یہ گذارش ہم اس لیے بھی کر رہے ہیں کہ ہمارے دل اپنے اس محترم اور عزیز بھائی کی تکالیف اور مصیبتوں سے پاش پاش ہو رہے ہیں۔اور ہمیں اس قدر رنج اور صدمہ پہنچ رہا ہے جسے الفاظ کے ذریعہ ظاہر کرنا ناممکن ہو رہا ہے۔۔۔احمد یوں پر محض اس لیے ظلم کرنا کہ کیوں انہوں نے اس برگزیدہ خدا کو قبول کیا جو دنیا میں اسلام کا بول بالا کرنے اور صداقت اسلام کا ڈنکا بجانے کے لیے آیا خدا کے غضب کو بھڑ کا نیوالا اور دین ود نیا اور جسم و روح دونوں کو تباہ کر نیوالا ہے۔وو پس ہماری اس مخلصانہ درخواست پر نہایت تحمل اور دور اندیشی سے غور کرنا چاہیے اور ہمیں ممنون کرتے ہوئے اپنی بہتری اور بھلائی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔(۲۴)