شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 226
226 نے کیوں خدا تعالیٰ کے سچے اور راستباز فرستادہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت کی توفیق پائی اور کیوں وہ اس راہ حق پر قائم ہو گئے۔جس پر خدا تعالی ساری دنیا کو قائم کرنا چاہتا ہے۔لیکن افسوس اور صد افسوس کہ اپنے اس رویہ میں اصلاح کر کے انہیں مدہم کرنے اور ان کی عقوبت سے بچنے کی کوشش کرنے کی بجائے روز بروز انہیں زیادہ چپکایا جا رہا ہے۔اور کوئی دن نہیں گذرتا جس میں بے گناہ احمدیوں کی مظلومیت میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔حالانکہ جس امن پسندی اور حکومت کی اطاعت شعاری کا وہ ثبوت دے رہے ہیں اس کی مثال اور کوئی پیش نہیں کر سکتا۔ایک مسلمان حکومت میں اور ایک مسلمان حکمران کے ماتحت جس کا دعوی ہو کہ اس نے ہر مذہب وملت کے لوگوں کو آزادی دے رکھی ہے جس کی سلطنت میں غیر مذاہب کے لوگ آرام و اطمینان سے بستے بلکہ بڑے بڑے عہدوں پر مامور ہوں۔اس کی رعایا اور نہایت وفا دار اور جاں نثار رعایا ہو کر اسلام کے بچے متبع بن کرفتنہ وفسا دشورش و بغاوت کی تمام را ہوں سے بیچ کر رہنے والے احمدیوں کو چین نصیب نہیں ہے۔وہ ایک طرف تو عوام کی وحشت اور درندگی کا شکار ہوتے رہتے ہیں سنا گیا تھا کہ موجودہ والئے کابل نے ہر مذہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی دے رکھی ہے۔اور کسی سے اختلاف عقائد کی وجہ سے تعرض نہیں کیا جاتا۔ممکن ہے دیگر مذاہب کے متعلق یہ بات درست ہو لیکن احمدیوں کے متعلق تو اس میں ذرا بھی شائبہ صداقت نہیں۔احمدی اسی طرح ستائے اور دکھ دیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ستائے جاتے تھے۔احمدیوں کے لیے اب بھی جہنم سے بدتر جیل کا بل کی تنگ و تاریک کوٹھڑیاں اسی طرح کھلی ہیں۔جس طرح پہلے کھلی تھیں۔۔ناظرین اخبار اپنے اس مجاہد بھائی کا حال سن چکے ہیں جس کا نام نعمت اللہ خان ہے اور جو ان دنوں کا بل کے جیل خانہ کی ایسی تیرہ و تارکوٹھڑی میں بند ہے جہاں روشنی کا گذر بھی ناممکن ہے۔ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے صبر اور استقلال عطا فرمائے اس پر صبر اور سکینت نازل کرے اور اس کے وجود کو احمدیت کے لیے مفید ترین وجود قرار دے۔جس جگہ کا