شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 228
228 سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی لندن میں تشریف آوری ۲۲ اگست ۱۹۲۴ ء کو حضور لندن میں خیریت سے پہنچ گئے تھے یہ اطلاع پرائیویٹ سیکرٹری مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے بذریعہ تار۲۳ / اگست کولندن سے بھجوائی جو مولانا شیر علی صاحب امیر ہندوستان کے نام تھی اور ۲۶ اگست ۱۹۲۴ء کو بٹالہ کے راستہ قادیان پہنچی - (۲۵) مولوی نعمت اللہ خان کی گرفتاری کے بعد ان پر چلائے گئے مقدمہ کے کوائف محکمہ شرعیہ ابتدائیہ کا فیصلہ ۲۰ ماه اسد ۱۳۰۳ شمسی هجری مطابق 9 محرم الحرام ۱۳۴۳ھ کو کوتوالی شہر کا بل کے قوماندان ( کوتوال ) کے چالان کرنے پر ملا نعمت اللہ ولد امان اللہ ولد میرزا سا کن موضع خوجہ رخہ علاقہ پہنچ شیر جو مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروؤں میں سے تھا۔محکمہ شرعیہ ابتدائیہ کابل میں حاضر ہوا۔جب اس سے دریافت کیا گیا تو باوجود اس کے کہ وہ اپنے آپ کو حنفی المذہب کہتا تھا۔اس نے اقرار کیا کہ مرزا غلام احمد مذکور مسیح موعود و مہدی معہود اور ظلی نبی ہیں اور حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام جسمانی طور پر زندہ نہیں اور آسمان سے ان کا جسمانی نزول درست نہیں ہے۔علاوہ ازیں شخص مذکوران تمام معتقدات کا پیرو اور ماننے والا ہے۔جن کا معتقد مرزا غلام احمد قادیانی تھا اور ان کی تمام تالیفات و تصانیف کو حق سمجھتا ہے اور کہتا ہے میں خود بھی ان عقائد کو جو ان کی مذکورہ کتابوں میں مندرج ہیں۔درست اور صحیح سمجھتا ہوں اور مرزا غلام احمد مذکورا گر چہ نبی صاحب شریعت جدیدہ نہیں ہے لیکن ظلی نبی یعنی فناء فی الرسول ہے۔یہی باتیں جن کا اس (ملا نعمت اللہ ) نے اپنی زبان سے اقرار کیا ہے اور اپنے قلم سے لکھ دی ہیں۔حسب اصول مذہب حنفی اور مطابق عقائد اہل سنت و جماعت ( ملا نعمت اللہ ) مذکور کو اس کے ان صاف الفاظ کی وجہ سے اور اس کے اس اعتقاد کی وجہ سے۔۔۔کافر قرار دیا جا تا ہے۔۔۔اور ایسے شخص کی تو بہ اس کے قتل کے حکم کو ساقط نہیں کرسکتی۔۔۔66