شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 164
164 با قاعدہ کارروائی ہونی چاہئیے ان رشتہ داروں میں ایک مولوی محمد صدیق صاحب تھے جو ہندوستان میں تعلیم حاصل کر چکے تھے انہوں نے ایک موقعہ پا کر امیر حبیب اللہ خان کے حضور پیش ہو کر کہا کہ اس طرح آپ نے حکم دیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔اس پر بادشاہ نے کہا کہ میں اب پھر حکم کرتا ہوں کہ واپس آجائیں اور ان کو کرایہ بھی دیا جائے اور خادم بھی دیئے جائیں اور اپنے وطن واپس چلے جائیں۔کچھ عرصہ بعد سردار عبداللہ خان طوخی کی معرفت ہمیں یہ حکم مل گیا اور ان سے کرایہ وغیرہ کی رقم بھی مل گئی۔اس پر ہم نے اپنی واپسی کا انتظام کر لیا اور کا بل واپس آگئے۔ابھی تک یہ فیصلہ نہ ہوا تھا کہ ہمیں ہماری زمین واپس کی جائے۔ہم نے کابل واپس آکر زمین کی واپسی کے سلسلہ میں درخواست دی لیکن اس پر کئی ماہ گزر گئے اس عرصہ میں ایک ماہ تک تمام خاندان کا بل ہی میں رہا اس کے بعد دو آدمی کابل میں رہے اور باقی سب خوست چلے گئے۔در ایں اثناءا میر حبیب اللہ کو جائداد کی فہرست پیش ہوئی باقی تین گھرانوں کو تو زمین دے دی گئی لیکن ہماری زمین جو سولہ ہزار کنال تھی اور جس میں باغ اور پن چکیاں تھیں ان کے متعلق حکم ہوا کہ یہ ہمیں واپس نہ کی جائیں۔بلکہ یہ لوگ خوست سے کابل واپس آجائیں اور ہم ان کو یہاں کا بل میں زمین دے دیں گے۔(۲۴) خوست میں عارضی قیام کے دوران صاحبزادوں کے دوسرے گھرانوں کو تو ان کی جاندا دوا پس کر دی گئی۔د مگر حضرت شہید مرحوم کے صاحبزادگان کو ان کی جائداد نہ دی گئی اور امیر کے نہ دینے کی وجہ یہ بتائی کہ ان کی بہت بڑی جائداد ہے نہیں دی جاسکتی اس پر ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے ان سے کہا کہ پھر یہ لوگ گزارا کیونکر کریں گے تو سردار نصر اللہ خان نے یہ جواب دیا کہ جس طرح ان کی مرضی ہو کریں ہم کچھ نہیں دیں گے۔چونکہ اس خاندان سے عقیدت رکھنے والے اس علاقہ میں بکثرت لوگ تھے اور وہ اس حال میں ان کو نہ دیکھ سکتے تھے اس لئے حکومت نے یہ خیال کر کے کہ وہ لوگ اس ظلم کے باعث جو شہید مرحوم کے بال بچوں پر روا رکھا جا رہا تھا۔کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں۔اس خاندان کو زیر حراست کا بل بلا لیا اس وقت