شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 165
165 اس قافلہ کی تعداد مع خدام ۱۴ رہ گئی جنہیں کابل میں رہنے کے لئے دو بہت ہی تنگ کوٹھڑیاں دی گئیں۔اس کے متعلق درخواست دی گئی کہ اتنی تنگ جگہ میں گزارا مشکل ہے اور خدام کے لئے علیحدہ رہنے کی جگہ کا ہونا ضروری ہے لیکن اس کے جواب میں کہا گیا۔ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔آخر ایک مکان اپنے (خرچ ) پر کرایہ پر لیا گیا۔تب جا کر گزارا ہونے لگا۔ان ایام میں ہفتہ میں دو بار کو تو الی جا کر اطلاع دینی پڑتی تھی کہ ہم لوگ اسی جگہ پر ہیں اور گھر محلہ کا نمبر دار دن رات نگرانی کرتا تھا اس حالت میں سارا خاندان پانچ سال رہا (۲۵) جیسا کہ پہلے ذکر آیا ہے امیر حبیب اللہ خان نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے اپنے گھرانہ کے بارہ میں یہ حکم دیا کہ یہ خوست میں نہ رہیں بلکہ واپس کا بل آجائیں۔جب یہ حکم پہنچا تو حاکم خوست نے اس فرمان پر عمل کچھ دیر روکے رکھا کیونکہ وہ سخت سردی کا موسم تھا اور راستے برف سے بھرے ہوئے تھے۔جب برف ختم ہوئی تو حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کے گھرانہ کو کابل واپس بھجوا دیا۔اور وہ وہاں مقیم ہو گئے۔حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ جب یہ کا بل میں آجائیں گے تو ان کو زمین دے دی جائے گی۔صاحبزادہ ابوالحسن قدسی بیان کرتے ہیں کہ کابل میں ہمیں اس حساب سے زمین دی گئی جو مجاہدین کو دی جاتی تھی۔بالغ مجاہد کے لئے فی کس بارہ کنال مقررتھی اور چھوٹی عمر والوں کے لئے چھ کنال مقرر تھی۔اس حساب سے تمام گھرانہ کو مجموعی طور پر اکیس کنال زمین دی گئی یہ زمین اس قد ر تھوڑی تھی کہ اس سے گزارے کے لئے غلہ بھی پورا نہ ہوتا تھا اس لئے گزارہ کے لئے بنوں کی زمین سے روپیہ منگوانا پڑتا تھا۔اس طرح قریباً دس سال کا عرصہ کا بل میں گزارا - (۲۶) جناب قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمد یہ صوبہ سرحد کا بیان ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے اہل وعیال کا قیام ( تخمیناً ) ۱۹۱۱ء سے ۱۹۲۰ء تک کا بل میں رہا۔وہاں رہائش کے لئے ایک معمولی سامکان شور بازار میں متصل چہاردہ معصوم کرایہ پر لیا ہوا تھا۔(۲۷)