شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 163
163 نام غالباً ابراہیم تھا۔یہ دونوں افسران فارسی جانتے تھے ان کو پشتو زبان سے واقفیت نہ تھی کیونکہ سمت جنوبی یعنی خوست وغیرہ کے لوگ جن سے واسطہ پڑنا تھا کی زبان پشتو تھی اس لئے مذکورہ بالا دونوں افسران کو ایک معاون دیا گیا جو پشتو جانتا تھا اس کا نام خواجہ گل خان تھا۔جب مذکورہ بالا دونوں افسران خوست آئے اور سرحد کے بارہ میں فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو جب کا بل واپس گئے تو اس علاقہ کے بڑے بڑے لوگوں کو ( جنہوں نے فیصلہ کروانے میں مدد دی تھی ) اپنے ساتھ کا بل لے گئے اور انہیں کہا کہ تمہیں بادشاہ کی طرف سے انعامات دیئے جائیں گے۔کابل میں ان کی ایک یا دو دن شاہی مہمان نوازی ہوئی۔سردار نصر اللہ خان ان کا مہمان نواز مقرر تھا۔جب کھانا کھانے کا وقت آیا اور بادشاہ دستر خوان پر بیٹھا تو خوست سے آنے والے سرداروں نے کھانا نہیں کھایا اس بارہ میں وہ پہلے باہم مشورہ کر کے خواجہ گل خان کو بتا چکے تھے کہ ہم اس طرح کرنے والے ہیں۔بادشاہ نے جب دیکھا کہ مہمان کھانا نہیں کھا رہے تو اس نے پوچھا کہ کیا بات ہے آپ کھانا کیوں نہیں کھاتے خواجہ گل خان کی معرفت انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگوں میں یہ دستور ہے کہ جب کوئی مُراد پوری کروانی ہوتی ہے تو کھانا نہیں کھایا جاتا جب تک مُراد پوری نہ ہو اس کے بعد کھانا کھاتے ہیں۔بادشاہ نے کہا کہ کیا مراد ہے۔ہم پوری کریں گے اس پر خواجہ گل خان نے بتایا کہ خوست کے صاحبزادگان قدیم سے پیر خانہ اور شریف لوگ ہیں اور ہم سب ان کی عزت کرتے ہیں ہماری عرض ہے کہ انہیں ترکستان سے واپس بلا لیا جائے۔اس پر امیر حبیب اللہ خان نے فوراً حکم کر دیا کہ اچھا وہ واپس آجائیں چونکہ یہ صرف زبانی حکم تھا اور اس کے ساتھ کوئی تحریر نہ تھی اس واسطے صاحبزادگان کے واپس آنے میں دیر ہوگئی بعض بڑے بڑے لوگوں نے صاحبزادوں کو لکھا کہ تمہارے بارہ میں امیر نے یہ حکم دے دیا ہے اس واسطے اب تم واپس آ جاؤ مگر ہمیں حکومت کی طرف سے کوئی حکم نہیں ملا - اس پر ہمارے کچھ رشتہ داروں نے اس معاملہ کو اٹھایا کہ بادشاہ کے اس حکم پر