شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 83
83 تک سفر کی تیاری کرتے رہیں۔باقی مشکلات کا خدا حافظ ہے“۔(۶۴) 66 - ۶ / مارچ ۱۹۰۳ء بروز جمعه- مجلس قبل از عشاء جس صاحب نے کل حضرت اقدس سے رخصت طلب کی تھی ان سے مخاطب ہو کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ” یہی مناسب ہے کہ عید کی نماز کے بعد روانہ ہوں کیونکہ پھر سخت گرمی کا موسم آنے والا ہے۔سفر میں بہت تکلیف ہوگی۔میں نے جیسا آپ سے وعدہ کیا ہے دعا کرتا رہوں گا۔مجھے کسی امیر یا بادشاہ کا خطرہ نہیں۔میرا کام دعا کرنا ہے اسی طرح فرمایا ” جب آدمی سلوک میں قدم رکھتا ہے تو ہزار ہا بلا اس پر نازل ہوتی ہیں جیسے جنات اور دیو نے حملہ کر دیا ہے مگر جب وہ شخص فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں اب واپس نہ ہوں گا اور اسی راہ میں جان دے دوں گا تو پھر وہ حملہ نہیں ہوتا اور آخر کار وہ بلا ایک باغ میں متبدل ہو جاتی ہے اور جو اس سے ڈرتا ہے اس کے لئے وہ دوزخ بن جاتی ہے۔اس کا انتہائی مقام بالکل دوزخ کا تمثل ہوتا ہے تا کہ خدا تعالیٰ اسے آزماوے۔جس نے اس دوزخ کی پروانہ کی وہ کامیاب ہوا۔یہ کام بہت نازک ہے۔بجز موت کے چارہ نہیں“۔(۶۵) سید احمد نور صاحب کا بیان ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب امیر حبیب اللہ خان سے چھ ماہ کی رخصت لے کر آئے تھے۔جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے واپسی کی اجازت کی درخواست کی تو حضور نے فرمایا کہ آپ کا ارادہ حج پر جانے کا تھا اور حج کا وقت تو گزر چکا ہے۔آپ ایک سال اور قادیان ٹھہر جائیں اور آئندہ سال حج کر کے افغانستان واپس چلے جائیں۔اس پر صاحبزادہ صاحب نے عرض کی کہ میں وطن واپس جا کر آئندہ سال حج کے لئے آ جاؤں گا۔اس پر حضور نے ان کو اجازت دے دی - (۶۶)