شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 82 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 82

82 کا بیان ہے کہ ۱۹۰۳ء میں وہ ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے ، زیر تبلیغ تھے۔اور احمدیت کی تعلیم سے کافی متاثر تھے۔ان ایام میں انہوں نے رویا میں دیکھا کہ وہ ایک بزرگ کے ہمراہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔کچھ عرصہ بعد ان کو ایک احمدی دوست نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو دکھایا تو وہ یہ معلوم کر کے حیران رہ گئے کہ یہ اسی بزرگ کی شکل ہے جن کے ساتھ انہوں نے حج کیا تھا۔(۶۳) غلام حیدر صاحب کی یہ رویا ۱۹۰۳ ء کی ہے اور یہ وہی سال ہے جب حضرت صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف صاحب بھی ذوالحجہ کے مہینہ میں قادیان میں مقیم تھے۔اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے جس کشفی واقعہ کا مسٹر مارٹن۔اے۔فرینک نے ذکر کیا ہے وہ بھی ۱۹۰۳ ء کا ہی بنتا ہے۔یہ تمام تشریحات یا وضاحتیں خاکسار کی ذوتی ہیں۔اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔(مرتب) صاحبزادہ محمد عبداللطیف صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے واپس اپنے وطن جانے کی اجازت مانگنا اور حضور علیہ السلام کے ارشادات ۵ / مارچ ۱۹۰۳ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی زبان میں بعض ارشادات فرمائے تھے جن کا اردو تر جمہ اخبار الحکم اور البدر میں شائع ہوا۔لکھا ہے کہ: ایک خادم نے حضرت اقدس سے رخصت طلب کی ان کا وطن یہاں سے دور دراز تھا اور ایک عرصہ سے آ کر حضرت اقدس کے قدموں میں موجود تھے۔ان کے رخصت طلب کرنے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان کی فطرت میں یہ بات ہوتی ہے اور میری فطرت میں بھی ہے کہ جب کوئی دوست جدا ہونے لگتا ہے تو میرا دل غمگین ہوتا ہے کیونکہ خدا جانے پھر ملاقات ہو یا نہ ہو۔اس عالم کی یہی وضع پڑی ہے۔خواہ کوئی ایک سو سال زندہ رہے آخر پھر جدائی ہے۔مگر مجھے یہ امر پسند ہے کہ عید الاضحیٰی نزدیک ہے وہ کر کے آپ جاویں۔جب