شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 72
72 کرتے تھے۔صاحبزادہ صاحب عمو ماً صف اول کے جنوبی کونے میں ہوتے تھے۔نماز کے بعد صاحبزادہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بیٹھتے تھے اور موقعہ یہ موقعہ کچھ کلام بھی کرتے تھے۔باتیں بہ آواز بلند کرتے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا قد درمیانہ تھا۔بدن موٹا نہ تھا۔ریش بہت گھنی نہ تھی۔اس کے بال اکثر سیاہ تھے۔ٹھوڑھی پر کچھ کچھ سفید تھے۔حالت نہایت گداز تھی۔اکثر حصہ رات کا بیدار رہتے۔تلاوت قرآن مجید کا عشق تھا۔اسے ہر وقت حرز جان بنائے رکھتے تھے۔اپنے ساتھیوں کی تربیت میں مصروف رہتے تھے۔(۴۲) میاں نظام الدین صاحب ٹیلر ماسٹر جہلم کی روایت ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین بھیں والے مقدمہ کے سلسلہ میں جہلم تشریف لائے تو جماعت جہلم نے دریا کے کنارے حضور اور ساتھ کے مہمانوں کے لئے ایک کوٹھی کا انتظام کیا ہوا تھا۔اس سفر میں صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب بھی حضور کے ساتھ شامل تھے۔مقدمہ والے دن حضور ان سے عدالت کے احاطہ میں فارسی زبان میں گفتگو فرما رہے تھے اور اردگر دلوگوں کا ہجوم تھا۔اس موقعہ پر ایک دوست نے درخواست کی کہ حضور اردو زبان میں تقریر فرما ئیں تا کہ عام لوگوں کو بھی فائدہ ہو۔اس پر حضور نے اردو میں تقریر شروع کر دی۔(۴۳) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۷ ارجنوری ۱۹۰۳ء کو بمقام جہلم ارشاد فرمایا: " حضرت ابو بکڑ نے کوئی نشان نہیں مانگا یہی وجہ تھی کہ آپ کا نام صدیق ہوا۔سچائی سے بھرا ہوا۔صرف منہ دیکھ کر ہی پہچان لیا کہ یہ جھوٹا نہیں ہے۔پس صادقوں کی شناخت اور ان کا تسلیم کرنا کچھ مشکل امر تو نہیں ہوتا۔ان کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں لیکن کور باطن اپنے آپ کو شبہات اور خطرات میں مبتلا کر لیتے ہیں۔وہ لوگ بڑے ہی بدقسمت ہوتے ہیں جو انتظار ہی میں اپنی عمر گزار دیتے ہیں اور پردہ برانداز ثبوت چاہتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ جیسا خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے انکشاف کے بعد ایمان نفع نہیں دیتا۔نفع میں وہی لوگ ہوتے ہیں اور سعادت مند وہی ہیں جو مخفی ہونے کی حالت میں شناخت کرتے ہیں۔عنقریب وقت