شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 71
71 آنکھوں سے تاثرات کی وجہ سے آنسو بہنے لگ جاتے‘ - (۳۹) حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی مزید بیان کرتے ہیں : حضور کی کتاب مواہب الرحمن، جو جہلم کے مقدمہ کی پیشی سے پہلے ہی چھپ کر شائع ہو چکی تھی۔سید عبداللطیف صاحب نے بھی اس کو پڑھ لیا تھا اور عجیب بات یہ ہے کہ حضرت اقدس کی طرف سے اس میں یہ پیشگوئی جو ذیل کے الفاظ وحی سے شائع کی گئی تھی یعنی قُتِلَ خَيْبَةً وَ زِيْد هَيْبَةٌ" يه سيد عبد اللطیف کے ہی متعلق تھی۔“ ( ۴۰ ) سید احمد نور بیان کرتے ہیں کہ : حضرت صاحبزادہ صاحب چند ماہ قادیان میں ٹھہرے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سیر کو بھی جایا کرتے تھے۔جب واپس آتے اور حضور اپنے گھر تشریف لے جاتے تو حضرت صاحبزادہ صاحب فوری طور پر اپنے کپڑوں سے گردوغبار صاف نہیں کرتے تھے جو سیر کے دوران ان پر پڑ جاتا تھا بلکہ کچھ عرصہ انتظار کرتے تھے اور جب ان کو اندازہ ہو جاتا کہ اب حضور نے اپنا لباس صاف کر لیا ہوگا تب اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑتے تھے‘ - (۴۱) جناب قاضی محمد یوسف صاحب کا بیان ہے کہ میں ۲۳ / رمضان المبارک ۱۳۲۰ھ بمطابق ۲۴ / دسمبر کو جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے قادیان آیا اور مہمان خانہ میں کنویں کے پاس والے کمرہ میں جو شمالی جانب تھا قیام کیا۔ان دنوں میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب بھی قادیان میں موجود تھے اور مہمان خانہ میں جنوب کی طرف پہلے کمرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب ہر صبح کو کنویں کے پاس چار پائی پر رو بہ قبلہ ہو کر بیٹھ جاتے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔نماز با جماعت کے لئے مسجد مبارک میں حاضر ہوتے تھے۔مسجد مبارک ان دنوں بہت چھوٹی ہوتی تھی۔ایک صف میں زیادہ سے زیادہ پانچ نمازی کھڑے ہو سکتے تھے۔حضرت مولانا عبدالکریم صاحب امام الصلوۃ ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کھڑکی کے پاس جو حضور کے گھر میں کھلتی تھی جانب شمال نماز ادا