شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 67 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 67

67 کے لئے روانہ ہونے میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔لاہور میں کچھ عرصہ قیام کے بعد آپ قادیان روانہ ہو گئے۔(۳۰) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف کی قادیان میں آمد اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : وہ اجازت حاصل کر کے قادیان میں پہنچے اور جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعوی کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا“۔(۳۱) اخبار البدر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ۱۸/ نومبر ۱۹۰۲ء کو قادیان پہنچے تھے اور ظہر و عصر کی نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اخبار میں لکھا ہے کہ : چند ایک احباب مع مولوی عبدالستار صاحب جو آج تشریف لائے تھے ان سے حضور نے ملاقات فرمائی۔ان کے تحفے تحائف لے کر جو انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کئے تھے فرمایا: 'ان کا آنا بھی ایک نشان ہے اور اس الہام يَاتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيق کو پورا کرتا ہے۔(۳۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: سعادت از لی مولوی صاحب ممدوح کو کشاں کشاں قادیان میں لے آئی اور چونکہ وہ ایک انسان روشن ضمیر اور بے نفس اور فراست صحیحہ سے پورا حصہ رکھتا تھا اور علم حدیث اور علم قرآن سے ایک وہی طاقت ان کو نصیب تھی اور کئی رویائے صالحہ بھی وہ میرے بارے