شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 66
66 جائے حج کے لئے مصمم ارادہ کیا اور امیر کابل سے اس سفر کے لئے درخواست کی۔چونکہ وہ امیر کا بل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے تھے اس لئے نہ صرف ان کو اجازت ہوئی بلکہ امداد کے طور پر کچھ روپیہ بھی دیا گیا‘ - (۲۹) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب کی حج کے ارادہ سے روانگی سید احمد نور صاحب کا بیان ہے کہ کابل سے سید گاہ واپس آنے کے قریباً ایک ماہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ان کے ہمراہ مولوی عبدالستار خان ، مولوی سید غلام محمد صاحب، آپ کے خادم خاص مولوی عبدالجلیل صاحب اور وزیری ملا صاحب تھے۔سید احمد نور روانگی کے وقت ساتھ نہیں تھے کیونکہ وہ صاحبزادہ صاحب کی اجازت سے اپنے گاؤں گئے ہوئے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ضلع بنوں والا راستہ اختیار کیا جہاں سرائے نورنگ میں آپ کی ملکیت جائیداد تھی۔لکی مقام پر ایک صاحب علم آدمی آپ کو ملا جو تحصیلدار تھا اس سے آپ کی گفتگو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں ہوئی۔اس شخص کے بشرہ سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ وہ حضور پر ایمان لے آیا ہے۔اس نے آپ کی باتوں پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی سواری کا گھوڑا اس کو تحفہ دے دیا۔لکی میں ایک اور مولوی صاحب آپ کو ملے۔انہوں نے آپ کی بہت عزت اور احترام کیا اور حضرت صاحبزادہ صاحب سے چند روز ان کے مہمان کے طور پر ٹھہرنے کی خواہش کی۔ان مولوی صاحب نے آپ کی خدمت میں بعض مسائل پیش کئے اور کہا کہ لوگ ان کی وجہ سے مجھے کافر ٹھیراتے ہیں۔آپ نے ان کو ایک تحریر لکھ کر دے دی کہ یہ مسائل درست ہیں اور اس پر اپنے دستخط کر دئے۔کچھ عرصہ کے بعد آپ لاہور کی طرف روانہ ہوئے۔لاہور پہنچنے پر آپ کو معلوم ہوا کہ ہندوستان میں طاعون کی وجہ سے قرنطینہ (Quarantine) کی پابندی لگی ہوئی ہے اور حج