شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 68
68 میں دیکھ چکے تھے اس لئے چہرہ دیکھتے ہی مجھے انہوں نے قبول کر لیا اور کمال انشراح سے میرے دعوئی مسیح موعود ہونے پر ایمان لائے اور جاں شاری کی شرط پر بیعت کی۔اور ایک ہی صحبت میں ایسے ہو گئے کہ گویا سال ہا سال سے میری صحبت میں تھے اور نہ صرف اس قدر بلکہ الہام الہی کا سلسلہ بھی ان پر جاری ہو گیا اور واقعات صحیحہ ان پر وارد ہونے لگے اور ان کا دل ماسوی اللہ کے بقایا سے بکتی دھویا گیا۔پھر وہ اس جگہ سے معرفت اور محبت الہیہ سے معمور ہو کر واپس اپنے وطن کی طرف گئے“۔(۳۳) که ملک خان با دشاہ صاحب ولد گل با دشاہ صاحب سکنہ درگئی ، خوست بیان کرتے ہیں میں 190 ء میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے همراه قادیان دارالامان میں آیا۔یہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ جب ہم آئے اسی دن بیعت کی یا دوسرے دن کی۔ہاں یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد ہم بیعت کے لئے پیش ہوئے۔حضرت شہید مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور پھر دوسرے نمبر پر خاکسار نے ہاتھ رکھا۔بیعت کرنے کے بعد اس خاکسار نے غالباً دو تین دن گزارے ہونگے کہ شہید مرحوم نے مجھے فرمایا کہ میں نے رؤیا دیکھی ہے کہ آپ کو خوست کے حاکم تکلیف دیں گے اس لئے تم فوراً وطن واپس چلے جاؤ۔چنانچہ میں دو تین یوم بعد واپس چلا گیا۔میرے ساتھ ایک ملا سپین گل صاحب بھی واپس چلے گئے۔‘ (۳۴) حضرت صاحبزادہ صاحب کے قیام قادیان کے بعض حالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : وہ کئی مہینہ تک میرے پاس رہے اور اس قدر ان کو میری باتوں میں دلچسپی پیدا ہوئی کہ انہوں نے میری باتوں کو حج پر ترجیح دی اور کہا کہ میں اس علم کا محتاج ہوں جس سے