شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 64 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 64

64 حضرت صاحبزادہ صاحب جنازہ کے لئے چلے گئے۔جنازہ میں محدود تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔عام لوگوں کو نہیں بلایا گیا تھا۔جنازہ کی امامت سردار حبیب اللہ خان نے کی۔امیر عبدالرحمن خان پر ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ء کو فالج کا حملہ ہوا تھا جس سے اس کا دایاں پہلو بیکار ہو گیا تھا۔باوجود ہر قسم کے علاج کے حالت دن بدن بد سے بدتر ہوتی گئی آخر کار ۳ اکتو برا ۱۹۰ ء کو انتقال کر گیا اور شہر کابل ده افغانان کے بازارشاہی کے بستان سرائے میں دفن کیا گیا - (۲۵) امیر حبیب اللہ خان کی دستار بندی امیر عبدالرحمن خان نے اپنے بیٹے سردار حبیب اللہ خان کو اپنا جانشین نامزد کیا تھا لیکن چونکہ بغاوت کا خطرہ تھا اسلئے امیر حبیب اللہ خان نے اپنی امارت کا عام اعلان فوری طور پر نہیں کیا۔لاکھوں روپیہ فوجی افسران اور سپاہیوں میں تقسیم کروایا۔دو تین دن شور رہا اس کے بعد فوج نے حبیب اللہ خان کو امیر تسلیم کر لیا۔امیر حبیب اللہ خان نے دلکشا سلام خانہ میں خاص در بار کیا۔جب لوگ نئے امیر کی بیعت کے لئے آئے تو اس نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو بھی بیعت کے لئے بلایا آپ نے فرمایا کہ میں اس شرط پر بیعت کروں گا کہ آپ اقرار کریں کہ شریعت کے خلاف کچھ نہیں کریں گے۔جب حبیب اللہ خان نے اس کا اقرار کر لیا تو آپ نے اس کی بیعت کی۔تبر کا حضرت صاحبزادہ صاحب کو شاہی دستار باندھنے کے لئے کہا گیا۔چنانچہ آپ نے امیر حبیب اللہ خان کو دستار باندھی۔جب دو تین بیچ باندھے جانے سے رہ گئے تو قاضی القضاۃ نے عرض کی کہ کچھ بیچ میرے لئے باقی رکھے جائیں تا کہ میں بھی کچھ برکت حاصل کرلوں۔تب کچھ پیچ قاضی القضاۃ نے باندھے۔(۲۶) امیر حبیب اللہ خان کی دربار عام میں تخت نشینی حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف نے ۳ / اکتو برا ۱۹۰ء کو دربار خاص میں امیر