شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 65
65 حبیب اللہ خان کی رسم دستار بندی ادا کی تھی۔اس کے بعد مورخہ ۶ راکتو بر کو ایک دربار عام منعقد کیا گیا اس میں جملہ امراء و اراکین سلطنت جو کابل میں موجود تھے نے امیر حبیب اللہ خان کو اپنا امیر تسلیم کر لیا۔امیر حبیب اللہ خان امیر عبدالرحمن خان کا بڑا بیٹا تھا جو ملکہ گل ریز ساکن واخان کے بطن سے سمرقند میں ۱۸۷۲ء میں پیدا ہوا تھا۔اس کی عمر تخت نشینی کے وقت تیں برس کی تھی۔سردار نصر اللہ خان اس کا چھوٹا بھائی تھا۔اس کی عمر اس وقت ۲۷ سال تھی۔سردار نصر اللہ خان کو امیر حبیب اللہ خان نے اسی دربار عام میں اپنا نائب السلطنت مقر ر کر نے کا اعلان کیا۔اس دربار میں تاج پوشی کی رسم سردار نصر اللہ خان نے ادا کی۔(۲۷) حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب کی کا بل سے وطن واپسی کچھ عرصہ کے بعد امیر حبیب اللہ خان نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ میرے والد آپ کی بہت عزت کرتے تھے اس لئے میں بھی آپ کی عزت کرتا ہوں۔آپ ہمارے محسن اور مہربان ہیں۔اگر آپ اپنے وطن جانا چاہتے ہیں تو خوشی سے جاسکتے ہیں۔اس پر آپ نے یہ ارادہ کر لیا کہ وطن واپس جا کر حج کے لئے ہندوستان کے راستہ سے روانہ ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کے لئے قادیان بھی ہوتے جائیں۔پہلے آپ نے سید احمد نور کی ہمراہی میں اپنے اہل وعیال کو کابل سے سید گاہ بھجوایا۔سیداحمد نوران کو وطن چھوڑ کر واپس آگئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے امیر حبیب اللہ خان سے حج پر جانے کی اجازت مانگی تو امیر نے خوشی سے اجازت دی اور آپ کو سواری کے لئے دو اونٹ اور نقد روپیہ دیا اور بڑی عزت واحترام کے ساتھ رخصت کیا - (۲۸) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ان کی روح جو نہایت صاف اور مستعد تھی میری طرف کھینچی گئی یہاں تک کہ ان کے لئے بغیر ملاقات کے دور بیٹھے رہنا نہایت دشوار ہو گیا۔آخر اس زبر دست کشش اور محبت اور اخلاص کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس غرض سے کہ ریاست کا بل سے اجازت حاصل ہو