شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 400
400 پڑے آخر تابوت کو خوست پہنچا کر سید گاہ میں دفن کر دیا گیا اور قبر کو زمین کے ساتھ ہموار رہنے دیا تا کہ مخالفوں کو پتہ نہ چلے۔نعش کو سید گاہ میں دفن ہوئے جب کافی عرصہ گزر گیا تو والد صاحب کے بعض دوستوں نے یہ مشورہ دیا کہ اب قبر کو چھپائے رکھنے کی ضرورت نہیں اس کو نمایاں کر دیا جائے۔نوٹ از مرتب : یہ حضرت خلیفہ المسح الاول کے زمانہ کا واقعہ ہے اور مشورہ دینے والوں میں عجب خان صاحب تحصیلدار آف زیدہ بھی تھے انہوں نے قبر کو پختہ اور نمایاں بنانے کے لئے کچھ رقم بھی بجھوائی تھی عجب خان صاحب اس وقت کو ہاٹ میں ملازم تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے وصال کے بعد عجب خان صاحب غیر مبائعین میں شامل ہو گئے تھے۔محمد میرو صاحب نے ایسا ہی کیا قبر ظاہر ہوتے ہی جب لوگ کثرت سے فاتحہ خوانی کے لئے آنے لگے۔بعض اشرار نے اس واقعہ کی رپورٹ کا بل میں ( سردار نصر اللہ خان کو۔سید مسعود احمد ) کر دی۔اور وہاں سے نعش کو نکالنے اور نعش کو لانے والے کو سخت سزا دینے کا حکم ہوا۔محمد میرو صاحب پر مظالم اس پر حاکم خوست نے نعش مبارک کو نکلوایا اور اس کو لانے والے یعنی محمد میرو صاحب کو بلا کر طرح طرح کے عذاب دیئے۔آپ کو اس قدر مارا پیٹا گیا کہ آپ کا تمام بدن زخمی ہو گیا۔اس کے بعد آپ کو گدھے پر باندھ کر نہیں بائیس دن تک تمام علاقہ میں پھرایا جاتا رہا۔اسی اثناء میں ملا اور محتسب لوگ آپ پر ایسے ظلم کرتے رہے جن کے ذکر سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔کوئی آپ کے منہ پر تھوکتا کوئی پتھر مارتا کوئی گالی دیتا۔آخر کانوں میں کیلیں گاڑ کر آپ کو خوست کے ایک بازار کے دروازہ پر ایک تختہ کے ساتھ دھوپ میں لٹکا دیا گیا۔چند دن تک یہی سلوک کیا گیا۔پھر قید خانہ میں گھسیٹ کر لے جایا گیا اور قید بامشقت کی سزا دی گئی ایک لمبے عرصہ تک جیل میں رکھا گیا۔