شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 401
401 ملا محمد میر وصاحب کی حضرت صاحبزادہ صاحب کے خاندان سے ہمدردی جب جناب محمد میر و صاحب قید سے رہا ہو گئے تو اس وقت ہم (یعنی حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید کا خاندان ) ترکستان میں جلا وطنی کی حالت میں تھے۔افغانستان کی حکومت میں جو جائدادیں تھیں وہ حکومت نے ضبط کر لی تھیں اور سوائے اس کے بنوں علاقہ انگریزی میں جہاں ہماری کچھ جائداد ہے وہاں سے کسی قدر آمدنی آتی۔اس سے ہمارا گذارا ہوتا اور کوئی گزارا کی صورت نہ تھی۔اس وقت ہماری یہ حالت تھی کہ لوگ حکومت کے خوف کی وجہ سے ہمارا نام تک لینا اپنے لئے مضر سمجھتے اور جو دوست تھے ان میں سے بھی اکثر کئی سرگردانیوں میں گرفتار ہو چکے تھے۔اس وقت محمد میر و صاحب ہی کا وجو د تھا جس کو ہماری ہمدردی اور خدمت کا احساس تھا۔قریباً پندرہ سال تک وہ ہمارے خرچ وغیرہ کا انتظام کرتے رہے۔بنوں جا کر ہماری زمین کی آمدنی لے کر ترکستان پہنچا دیتے راستے کی دُوری برفوں اور پہاڑوں کی مشکلات آپ کے راستہ میں حائل نہ ہو سکتی تھیں۔اور ایک مدت دراز تک وہ ان دور دراز سفروں کو پیدل طے کرتے رہے۔پھر جب ہم کا بل کے جیل خانوں میں تھے وہاں بھی آپ ہی کا وجود ہمارے لئے نہایت مفید ثابت ہوا۔اور ہم خدا کے فضل سے آپ کی کوشش سے نہایت با آبرو اور عزت کے ساتھ رہتے۔خلاصہ یہ کہ جب تک ہمیں ضرورت تھی اس وقت تک انہوں نے ہمیں نہ چھوڑا۔اور جس وقت ہم کو شاہ امان اللہ خان نے اپنے ملک میں آنے کی اجازت دی اور ہم سید گاہ میں آگئے ( یہ ۱۹۱۹ ء کا واقعہ ہے مرتب ) اس وقت انہوں نے کہا اب عمر کے آخری حصہ کو قادیان میں ہی ختم کرنا چاہئیے چنانچہ وہ قادیان آگئے اور پھر آخری دم تک قادیان میں ہی رہے۔جاں نثاری کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ایسی جاں شاری کی مثالوں کے