شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 306
306 مشورے دینے لگے کہ جرگہ میں تو بادشاہ کی تائید کرو اور واپس جا کر مخالفت جاری رکھنا۔لوئی جرگہ کے نمائندگان پر کابل کے بدلے ہوئے ماحول کا منفی اثر لوئی جرگہ کے نمائندگان جو ایک قدیم خیالات رکھنے والی قوم کے نمائندہ تھے اور ہر جدید تبدیلی ان کے لئے نا قابل قبول اور تعجب انگیز تھی انہوں نے جدید خیالات والے بادشاہ کے زیر اثر کابل کے ماحول میں تبدیلی کا مشاہدہ کیا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کابل اور پغمان میں افغان عورتیں فیشن ایبل یورپین لباس میں بیبا کا نہ ادھر ادھر باغوں اور بازاروں میں سیریں کرتی پھر رہی ہیں ان کے چہرے ننگے ہیں اور وہ سنگھار کئے ہوئے ہیں۔یہ خواتین یا تو شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں یا ان وزراء اور افسران سے تعلق رکھتی تھیں جو جدید خیالات کے تھے اور نئے فیشن اور برہنہ روئی کو پسند کرتے تھے۔بعض ایسے لوگوں کے خاندانوں سے تھیں جن کا مقصد جدید اطوار اپنا کر بادشاہ کی رضا مندی حاصل کرنا اور اس کا منظور نظر بننا تھا۔یہ لوگ اس طریق سے حکومت میں عہدے حاصل کرنے کے خواہش مند تھے کابل میں عام مردوں کو بھی یہ ہدایت تھی کہ وہ مغربی لباس اور ہیٹ پہنا شروع کر دیں۔عورتوں کے لئے یہ امر ضروری کیا گیا کہ وہ پرانے طرز کا برقعہ جس میں سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم ڈھانپا جاتا تھا نہ پہنیں بلکہ اسکی جگہ جدید طرز کا مکتبی برقعہ جو ترکی میں استعمال ہوتا تھا اوڑھیں اسطرح وہ روایتی شلوار جسے دلاق کہا جاتا ہے کے پہنے کی ممانعت تھی۔ایک حکم یہ جاری کیا گیا تھا کہ جشن استقلال کی تقریبات میں نہ تو وہ مر د شامل ہو سکتے ہیں جو یوروپین طرز کا لباس نہ پہنتے ہوں اور نہ وہ عورتیں جنہوں نے پرانے طرز کا برقعہ یا دلاق پہنا ہو۔جشنِ استقلال سے کچھ دن پہلے لوئی جرگہ شروع ہو چکا تھا۔تا کہ جشن استقلال کے خاتمہ کے ساتھ ہی جرگہ بھی ختم ہو جائے۔